LIVE
Loading Breaking News...

ہنٹر بائیڈن کا صدارتی معافی پر تبصرہ اور مستقبل کے سیاسی ارادوں کا اظہار

News Image
ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے والد کی جانب سے دی گئی معافی کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنی زندگی کے اہم ترین واقعات اور والد کی جانب سے ملنے والی صدارتی معافی کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔ ہنٹر بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہیں ملنے والی معافی کا فیصلہ کسی طور پر بھی امریکا یا ان کے والد کی سیاسی میراث کے لیے مثبت نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک ایسا تنازعہ کھڑا کیا جس کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ صورتحال ان کے لیے ذاتی اور سیاسی دونوں لحاظ سے تکلیف دہ رہی ہے۔ اس انٹرویو کے دوران ہنٹر بائیڈن نے ان قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ مستقبل میں سیاست میں حصہ لینے یا کسی انتخابی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی دلچسپی سیاسی میدان میں نہیں ہے اور وہ اپنی زندگی کے اس باب کو بند کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہنٹر کا کہنا تھا کہ ان کا فوکس اب اپنی نجی زندگی اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے پر مرکوز ہے۔ بات چیت کے دوران ہنٹر بائیڈن نے اپنے والد صدر جو بائیڈن کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں بھی نہایت جذباتی انداز میں اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنے والد کی خدمت اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیٹے کے لیے اپنے والد کو اس حالت میں دیکھنا بہت کٹھن ہوتا ہے۔ انہوں نے جو بائیڈن کی پوری زندگی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ ملکی مفاد کو اپنی ذات پر ترجیح دی ہے، چاہے حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ رہے ہوں۔ بی بی سی کے ساتھ اس طویل گفتگو کا مقصد ہنٹر بائیڈن کے ارد گرد موجود ان الزامات اور قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنا تھا جو گزشتہ کئی سالوں سے امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہیں۔ ہنٹر نے کہا کہ وہ اب ان تمام مسائل سے باہر نکل کر ایک پرسکون زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آنے والا وقت ان کے خاندان کے لیے سکون کا باعث بنے گا۔ یہ انٹرویو ہنٹر بائیڈن کے ان خیالات کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی سیاست کے موجودہ منظر نامے میں کافی اہمیت رکھتے ہیں۔