World
لبنان اسرائیل مذاکرات: سرحدی تنازعات کے حل کی جانب مثبت پیشرفت
لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے ساتویں دور کے بعد سرحدوں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاملات پر مثبت پیشرفت کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب جنوبی لبنان میں اسرائیل کے نئے فضائی حملے بھی رپورٹ کیے گئے ہیں جس سے کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
لبنان کی جانب سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں حکام نے اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے ساتویں دور کے بعد سرحدوں کے تعین اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مثبت پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ بیروت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری ان معاملات پر فریقین کے درمیان کچھ بنیادی نکات پر اتفاق پایا گیا ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم اس سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق بدستور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے نئے حملے کیے گئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایک طرف مذاکرات کا عمل جاری ہے اور دوسری طرف سرحد پار فائرنگ اور فضائی کارروائیوں کا سلسلہ نہیں تھم سکا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں ہونے والے ان حملوں کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان فوجی کارروائیوں نے سفارتی کوششوں کی کامیابی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں کچھ بہتری کے اشارے ملے ہیں، لیکن جب تک جنوبی لبنان میں عسکری کارروائیاں بند نہیں ہوتیں، تب تک کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو گا۔ مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدوں کا تعین اور قیدیوں کی رہائی کے مسائل انتہائی حساس ہیں اور ان کے لیے دونوں جانب سے مزید لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتیں بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی صورتحال سے بچا جا سکے۔
مستقبل میں ان مذاکرات کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا دونوں فریقین ایک طویل مدتی جنگ بندی کے معاہدے پر رضامند ہوتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال لبنان نے سفارتکاری کا راستہ اپنا رکھا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے نقصان سے بچا جا سکے، جبکہ اسرائیلی قیادت کی جانب سے تاحال سخت گیر موقف برقرار ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ 'مثبت پیشرفت' کسی حتمی امن معاہدے کی شکل اختیار کر پاتی ہے یا نہیں۔