Technology
ڈزنی اور اے آئی: ٹیکنالوجی کس طرح تفریحی صنعت کا مستقبل بدل رہی ہے
والٹ ڈزنی کمپنی اپنی کاروباری حکمت عملیوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو تیزی سے شامل کر رہی ہے تاکہ تفریحی تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔ کمپنی کی حالیہ کارکردگی رپورٹ سے واضح ہے کہ جدید ٹیکنالوجی ڈزنی کے اسٹوڈیوز اور پارکوں کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہے۔
والٹ ڈزنی کمپنی کی جانب سے حالیہ مالیاتی رپورٹ کے اجراء کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تفریح کی یہ عالمی بڑی کمپنی اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو اپنی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنا رہی ہے۔ ڈزنی کے ایگزیکٹوز بالخصوص سی ای او جوش ڈی امارو نے شیئر ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی کانفرنس کال میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات کمپنی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اے آئی کا پہلا اور سب سے نمایاں اثر ڈزنی کے تھیم پارکس میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں مہمانوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ذہین سسٹم استعمال کیے جا رہے ہیں جو ہجوم کے انتظام اور انتظار کے وقت کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
دوسری جانب ڈزنی کے اسٹوڈیوز بھی تخلیقی عمل میں اے آئی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اینیمیشن اور بصری اثرات (VFX) کی تیاری میں جہاں پہلے مہینوں کا وقت درکار ہوتا تھا، اب جدید الگورتھم کی مدد سے یہ کام تیزی سے اور کم خرچ میں کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ اقدام ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اس سے تخلیقی کام کے معیار اور فنکاروں کے کردار پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ڈزنی کا ماننا ہے کہ اے آئی کا مقصد انسانی تخلیقیت کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے ایک ایسی طاقت فراہم کرنا ہے جس سے کہانی سنانے کا انداز مزید جدید اور دلکش ہو سکے۔
تیسری اہم تبدیلی ڈزنی کی ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز اور کسٹمر انگیجمنٹ کے شعبے میں دیکھی جا رہی ہے۔ ڈیٹا اینالیٹکس اور اے آئی پر مبنی سفارشی نظام (Recommendation Systems) کے ذریعے ڈزنی پلس اپنے ناظرین کو ان کی دلچسپی کے مطابق مواد دکھانے میں پہلے سے کہیں زیادہ ماہر ہو گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صرف مواد کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ مارکیٹنگ اور اشتہارات کی حکمت عملیوں کو بھی بہتر بنا رہی ہے۔ والٹ ڈزنی کا یہ خاموش مگر فیصلہ کن قدم ثابت کرتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں تفریحی صنعت کا دارومدار مکمل طور پر ڈیٹا اور اے آئی کی درست کاری پر ہوگا۔ ڈزنی اس ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے اپنی پرانی روایات اور جدید دور کی ضروریات کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔