LIVE
Loading Breaking News...

بچوں کی اسمارٹ واچز میں سیکیورٹی رسک اور ہیکنگ کے خطرات

News Image
بچوں کے لیے بنائی گئی ایک سستی اسمارٹ واچ میں سیکیورٹی نقائص کے باعث ہیکرز کی جانب سے جاسوسی کا انکشاف ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نامعلوم کمپنیوں کی تیار کردہ ایسی ڈیوائسز بچوں کی پرائیویسی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والے ایک ہولناک انکشاف کے مطابق بچوں کے لیے تیار کردہ ایک سستی اسمارٹ واچ کو ہیکرز کی جانب سے جاسوسی کے مقصد کے لیے استعمال کیے جانے کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ یہ اسمارٹ واچ جو کہ ایک غیر معروف کمپنی سی جے سی (CJC) کی جانب سے فروخت کی جا رہی تھی، اپنی سیکیورٹی خصوصیات میں انتہائی کمزور پائی گئی ہے۔ صرف 30 ڈالر سے کم قیمت میں دستیاب اس ڈیوائس کی تیاری ایک ایسی کمپنی نے کی ہے جس کے بارے میں مارکیٹ میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں موجود سستی ٹیکنالوجی کس قدر غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔ اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہیکرز نے نہ صرف اس ڈیوائس کے سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کی بلکہ اس کے ذریعے بچوں کی لوکیشن اور دیگر نجی معلومات بھی حاصل کیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس قسم کی سستی ڈیوائسز اکثر ناقص انکرپشن اور پرانے سیکیورٹی پروٹوکولز پر مبنی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ہیکرز آسانی سے ان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ والدین جو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایسی واچز خریدتے ہیں، وہ درحقیقت انجانے میں اپنے بچوں کو ڈیجیٹل خطرات کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کے لیے گیجٹس خریدتے وقت صرف قیمت اور ظاہری خوبصورتی پر توجہ نہ دیں۔ ڈیوائس بنانے والی کمپنی کی ساکھ، ڈیٹا پرائیویسی کے معیارات، اور اس کے سیکیورٹی اپ ڈیٹس کی تاریخ کو جانچنا اشد ضروری ہے۔ غیر معروف کمپنیوں کے سستے آلات نہ صرف ہیکنگ کا شکار ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے بچوں کی گفتگو سننے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا غیر قانونی عمل بھی کیا جا سکتا ہے، جو کہ کسی بھی خاندان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارے اسمارٹ آلات کی تیاری اور ان کی سیکیورٹی چیکنگ کے لیے سخت ضوابط لاگو کریں۔ جب تک مارکیٹ میں ایسی سستی اور غیر معیاری مصنوعات کی بھرمار رہے گی، تب تک صارفین، خاص طور پر بچے، ہیکرز کے نشانے پر رہیں گے۔ والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی ڈیوائسز کے انتخاب میں احتیاط برتیں جن کی سیکیورٹی کی تصدیق معروف سیکیورٹی فرمز نے کی ہو، تاکہ بچوں کی ڈیجیٹل اور حقیقی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔