LIVE
Loading Breaking News...

خلا سے سورج کی روشنی کا حصول: ایف سی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل

News Image
چار بڑی ماحولیاتی تنظیموں نے ایف سی سی سے ایک ایسی سٹارٹ اپ کمپنی کے منصوبے کی منظوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جو خلا سے زمین پر سورج کی مصنوعی روشنی بھیجنا چاہتی ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا درست جائزہ نہیں لیا گیا اور یہ اقدام قدرتی توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔
امریکہ میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی چار بڑی تنظیموں نے وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) کے اس فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے جس میں ایک نجی سٹارٹ اپ کو خلا سے زمین پر براہ راست سورج کی مصنوعی روشنی بھیجنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایف سی سی نے اس منصوبے کی منظوری دیتے وقت ان انتہائی منفی ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کیا جو زمین کے ماحول اور حیاتیاتی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں کا استدلال ہے کہ خلا سے روشنی بھیجنے والی اس ٹیکنالوجی کے بارے میں ابھی تک مکمل تحقیق نہیں کی گئی ہے اور یہ زمین کے قدرتی درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر زمین پر موجود سولر پینلز یا دیگر ضروریات کے لیے سورج کی روشنی کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تاہم، سائنسدانوں اور ماہرین ماحولیات کو خدشہ ہے کہ خلا میں نصب ریفلیکٹرز یا روشنی منتقل کرنے والے آلات نہ صرف خلائی کچرے میں اضافے کا باعث بنیں گے، بلکہ رات کے وقت مصنوعی روشنی کے ذریعے قدرتی تاریکی کو ختم کرنے سے جنگلی حیات کے معمولات بھی درہم برہم ہو سکتے ہیں۔ تنظیموں نے اپنی قانونی پٹیشن میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ایف سی سی کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے اور جب تک اس پروجیکٹ کے مکمل اثرات کا جائزہ نہیں لیا جاتا، اسے معطل رکھا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، مذکورہ سٹارٹ اپ کمپنی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ توانائی کے بحران کو حل کرنے اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی میں انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی انتہائی محفوظ ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق کام کر رہے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا ماننا ہے کہ خلا کا استعمال انسانی مفادات کے لیے اس طرح کرنا کہ زمین کے قدرتی توازن کو خطرہ لاحق ہو، ایک خطرناک رجحان ہے۔ اب ایف سی سی کو اس قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے جس کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ریگولیٹری ادارہ اپنی منظوری برقرار رکھتا ہے یا پھر اسے واپس لے کر مزید تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف خلا کی تجارتی کاری کے حوالے سے ایک اہم بحث چھیڑ رہا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ اب مستقبل کی ٹیکنالوجی کو ماحولیاتی معیارات اور تحفظات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا کتنا ضروری ہو گیا ہے۔