World
یمن میں حوثی باغیوں کے حملے، متعدد ہلاکتیں اور کشیدگی میں اضافہ
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے مآرب اور دیگر علاقوں میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے گئے ہیں جن میں اب تک 38 سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں نے یمنی تنازعہ میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
یمن میں جاری خانہ جنگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مآرب اور دیگر محاذوں پر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج کے کم از کم 38 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف عسکری توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ عام شہریوں میں بھی شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باغیوں نے منصوبہ بندی کے تحت فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
مآرب کا علاقہ یمنی حکومت کے لیے انتہائی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے اور اسے حکومت کا آخری بڑا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے اس علاقے پر قبضے کی کوششیں اس تنازعہ کو مزید طول دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں نہ صرف فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں بلکہ شہری آبادی کے نزدیک ہونے والے دھماکوں سے گیارہ شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی عسکری سرگرمیوں پر عالمی طاقتیں کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثی باغی یمن میں امن کی تمام تر کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں اور ایران کی شہ پر خطے کا امن برباد کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ان حملوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو یمن میں پہلے سے جاری بدترین انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے اور یمنی عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔