Business
امریکی لیبر مارکیٹ کا بحران: جولائی میں ہزاروں ملازمتیں ختم
امریکہ کی لیبر مارکیٹ میں جولائی کے دوران غیر متوقع طور پر 23 ہزار ملازمتوں کا خاتمہ ہوا ہے جس کے باعث معاشی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بھی کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
امریکہ کی لیبر مارکیٹ کو جولائی کے مہینے میں شدید دھچکا پہنچا ہے، جہاں لیبر فورس کی شرکت میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر 23 ہزار ملازمتوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار ماہرین کی توقعات کے برعکس سامنے آئے ہیں، جس سے ملکی معیشت کے سست پڑنے کے خدشات کو تقویت ملی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبر فورس میں شرکت کی شرح کا گرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آجروں کی جانب سے نئی بھرتیاں کرنے کے بجائے کام کے مواقع کو محدود کیا جا رہا ہے، جو کہ طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ایک تشویشناک علامت ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ملازمت پیشہ افراد کو متاثر کیا ہے بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ جاب رپورٹ ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوئی ہے، کیونکہ معیشت کی بہتری کے دعووں کے باوجود لیبر مارکیٹ میں یہ کمی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس اعداد و شمار کو حکومت کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس سے آنے والے وقت میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس غیر متوقع جاب لاس رپورٹ کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سرمایہ کاروں نے خدشات کے پیش نظر اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی شروع کر دی ہے اور مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس صورتحال کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں، کیونکہ اب مرکزی بینک کو معاشی سست روی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ مجموعی طور پر جولائی کے ان اعداد و شمار نے امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر لیبر مارکیٹ میں بہتری نہ آئی تو اس کے اثرات آنے والی سہ ماہیوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور فیڈرل ریزرو کے درمیان اب اس بات پر بحث جاری ہے کہ کس طرح معیشت کو دوبارہ پٹری پر لایا جائے اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے اس رجحان کو کیسے روکا جائے تاکہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔