LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ اے آئی فریم ورک: مصنوعی ذہانت کی نئی پالیسی پر سوالات

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) فریم ورک کو سخت تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس کے اہم نکات عوام سے خفیہ رکھے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بائیڈن انتظامیہ کی سابقہ حکمت عملی کا ہی ایک نیا روپ معلوم ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے تیار کردہ نئے فریم ورک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یہ تجویز دی گئی ہے کہ اے آئی لیبز کو اپنے جدید ترین ماڈلز ابتدائی جائزے کے لیے حکومتی عہدیداروں کے حوالے کرنے ہوں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پوری حکمت عملی اتنی غیر واضح ہے کہ اس کے اندرونی نکات عوام سے مکمل طور پر چھپائے گئے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ مجوزہ فریم ورک بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے طے شدہ منصوبے سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ جس پالیسی کو پہلے بائیڈن انتظامیہ کی ناکامی یا خامی قرار دے کر تنقید کی جاتی تھی، اب وہی تجاویز نئے نام سے پیش کی جا رہی ہیں۔ ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا یہ فریم ورک واقعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کوئی انقلابی تبدیلی لائے گا یا پھر یہ صرف ایک رسمی کارروائی ہے جس کا مقصد اے آئی لیبز کے کام پر نگرانی کے بہانے کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب، اے آئی انڈسٹری سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ماڈلز کو حکومتی جائزے کے لیے پیش کرنے کا عمل حساس نوعیت کا حامل ہے۔ اگر ان ماڈلز کی سیکیورٹی یا ان کی خفیہ ٹیکنالوجی کا ڈیٹا لیک ہو گیا تو یہ بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وجہ سے لیبز کی جانب سے بھی اس فریم ورک پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ فی الحال، وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پالیسی کے تفصیلی نکات کو عوام کے سامنے لانے سے گریز کیا جا رہا ہے، جس نے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر، مصنوعی ذہانت کا شعبہ اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس طرح کے سخت ضوابط اس کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس فریم ورک کی تفصیلات فراہم نہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید حکومت خود بھی اس پالیسی کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت اپنے موقف میں شفافیت لاتی ہے یا یہ معاملہ مزید تنازعات کا شکار ہو جائے گا۔