World
لاس اینجلس میں بیکار پے فونز پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کا تنازع
لاس اینجلس کاؤنٹی نے شہر بھر میں موجود تقریباً 250 پے فونز کو فعال رکھنے کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام پر عوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ جدید دور میں ان فونز کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی انتظامیہ نے ایک ایسے اقدام کا فیصلہ کیا ہے جس نے مقامی باشندوں اور ٹیک ماہرین کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 10 لاکھ ڈالر کی رقم شہر بھر میں موجود 250 کے قریب پے فونز کی دیکھ بھال اور انہیں فعال رکھنے پر خرچ کی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قدیم ٹیکنالوجی آج کے جدید دور میں، جہاں تقریباً ہر فرد سمارٹ فون کا استعمال کرتا ہے، عملی طور پر متروک ہو چکی ہے اور اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ لاس اینجلس کاؤنٹی کے انٹرنل سروسز ڈیپارٹمنٹ (ISD) کی جانب سے اس بجٹ کی منظوری کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔
اس فیصلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اتنی بڑی رقم ضائع کرنا عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا غلط استعمال ہے۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پے فونز ابھی بھی ہنگامی حالات میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم شہری اس دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فونز کو برقرار رکھنے کے لیے جو اخراجات کیے جا رہے ہیں، ان سے بہتر ہے کہ اس رقم کو بنیادی سہولیات جیسے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر یا عوامی فلاح کے دیگر منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔ 10 لاکھ ڈالر کی یہ خطیر رقم محض پرانی مشینری کو سڑکوں پر کھڑا رکھنے کے لیے ایک غیر ضروری بوجھ محسوس کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب محکمہ سروسز کے حکام کا موقف ہے کہ یہ پے فونز ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہیں جو طویل مدتی ہے اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کے قانونی اور تکنیکی پیچیدگیاں ہیں۔ تاہم، شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہر انتظامیہ اپنی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لے اور ایسے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرے جو عوام کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند ہوں۔ یہ معاملہ اب لاس اینجلس کی مقامی سیاست اور انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔