Business
بٹ کوائن کمپنی کی سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ دہی، شیئر ویلیو میں 98 فیصد کمی
نیس ڈیک پر موجود ایک کمپنی نے اپنے حصص کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر کے پرانے سرمایہ کاروں کے حصص کی قدر میں 98 فیصد کمی کر دی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کمپنی نے اپنے پاس موجود بٹ کوائن کے ذخائر فروخت کیے بغیر یہ عمل مکمل کیا۔
نیس ڈیک پر لسٹڈ ایک بٹ کوائن ہولڈنگ کمپنی نے اپنی مالیاتی حکمت عملی کے ذریعے سرمایہ کاروں کو شدید جھٹکا دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے پاس موجود بٹ کوائن کے ذخائر کو فروخت کیے بغیر، اپنے شیئرز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کر کے پرانے سرمایہ کاروں کے منافع کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، کمپنی کے حصص کی تعداد جو پہلے تقریباً 2.86 ملین تھی، بڑھ کر 147.3 ملین تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کمپنی کے خزانے میں موجود بٹ کوائن کی تعداد بدستور 5,833 کے قریب برقرار ہے۔
اس عمل کو مالیاتی اصطلاح میں 'شیئر ڈائلیوشن' یا حصص کی قدر میں کمی کہا جاتا ہے۔ کمپنی نے اپنے شیئرز کی تعداد میں زبردست اضافہ کر کے پرانے شیئر ہولڈرز کی ملکیت کے تناسب کو 98 فیصد تک کم کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ کمپنی نے اثاثوں کو فروخت کیے بغیر صرف حصص کے اجراء سے مارکیٹ ویلیو میں ردوبدل کر دیا ہے۔
اس واقعے نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ بہت سے سرمایہ کاروں نے اس کمپنی میں اس لیے سرمایہ کاری کی تھی کہ یہ بٹ کوائن کے ذخائر کے بدلے میں ان کو منافع فراہم کرے گی۔ تاہم، حصص کی تعداد میں اضافے سے مارکیٹ میں شیئرز کی فراہمی بڑھ گئی ہے جس سے ہر شیئر کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ایک پیچیدہ مالیاتی اقدام ہے جس نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے اقدامات کے خلاف سخت ریگولیٹری نگرانی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ نیس ڈیک جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر لسٹڈ کمپنیوں کا اس طرح کا رویہ سرمایہ کاروں کے تحفظ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ فی الحال کمپنی کی جانب سے اس عمل کی وجوہات پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے، لیکن مارکیٹ کے مبصرین اسے سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک انتباہی مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔