World
سلامتی کونسل کی سوات خودکش دھماکے پر مذمت، پاکستان کا مؤقف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی پُرزور مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے عالمی ادارے میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے سوات میں پیش آنے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے شدید خطرات اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایه ممالک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے خطے کا امن اور استحکام شدید خطرے میں ہے۔ اس سلسلے میں سفارتی سطح پر بھی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ عالمی برادری کو اس خطرناک صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب، چین نے بھی انسداد دہشت گردی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے اور اس بات کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے کہ تمام متعلقہ فریقین خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کریں۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ عبوری افغان حکومت کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ سرحد کے دونوں جانب امن کی فضا قائم کی جا سکے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے اس واقعے کی مذمت اور پاکستان کے تحفظات پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توجہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں دہشت گردی کا مسئلہ اب ایک بین الاقوامی سلامتی کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے اجتماعی اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔