LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی سوڈان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی تشویش

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان میں امن معاہدے کے بکھرنے اور قحط کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں دسمبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے ابھی حالات سازگار نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں جنوبی سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں جاری امن معاہدہ تیزی سے ٹوٹ رہا ہے جس کے نتیجے میں انسانی بحران اور قحط کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور حکومتی سطح پر وعدہ خلافیوں نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس اجلاس میں خاص طور پر دسمبر میں متوقع انتخابات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کا ماننا ہے کہ جنوبی سوڈان کی موجودہ انتظامیہ ابھی ان انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے اور حالات شفاف ووٹنگ کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے جوبا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انتخابات کا تذکرہ صرف عطیہ دہندگان کو راغب کرنے کے لیے کر رہی ہے جبکہ عملی اقدامات میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی دیتی۔ دوسری جانب، پاکستان نے بھی اس صورتحال پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے جنوبی سوڈان میں امن عمل کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر اصرار کیا کہ تمام فریقین کو امن معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے تاکہ ملک میں ایک منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ برطانیہ نے بھی اقوام متحدہ کے مشن UNMISS کے ساتھ مکمل تعاون کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک کو مکمل تباہی اور خانہ جنگی سے بچایا جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی سوڈان کی حکومت نے فوری طور پر اصلاحات نہ کیں اور امن معاہدے کے نکات پر عمل درآمد نہ کیا، تو ملک ایک بار پھر بدترین خانہ جنگی اور معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فریقین پر دباؤ ڈالے تاکہ انسانی المیے کو روکا جا سکے اور لاکھوں لوگوں کو قحط کے دہانے سے واپس لایا جا سکے۔