Technology
اے آئی ڈیجیٹل ٹونز اور برطانیہ میں قانونی خلا: کیا آپ محفوظ ہیں؟
برطانیہ میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیجیٹل ٹونز کے استعمال پر سخت قوانین کا فقدان صارفین کی پرائیویسی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شناخت کی چوری اور ڈیپ فیک کے بڑھتے واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں سہولیات میں اضافہ کیا ہے، وہیں سنگین اخلاقی اور قانونی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں 'ڈیجیٹل ٹونز' یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کردہ انسانی شبیہات کے حوالے سے قانون سازی میں ایک بڑا خلا موجود ہے۔ یہ ڈیجیٹل ٹونز کسی بھی شخص کی آواز، حرکات و سکنات اور چہرے کے تاثرات کی ہو بہو نقل کر سکتے ہیں، جس کا غلط استعمال نہ صرف نجی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ تجارتی سطح پر بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان ٹیکنالوجیز کے لیے فوری طور پر جامع ضوابط متعارف نہ کرائے گئے تو صارفین اپنی آن لائن شناخت پر اختیار کھو دیں گے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے ٹک ٹاک، پر ڈیپ فیک ویڈیوز کی بھرمار نے صارفین میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ کئی تخلیق کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان کی ڈیجیٹل شبیہہ کو ان کی اجازت کے بغیر کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تخلیقی حقوق کی پامالی ہے بلکہ یہ ایک ایسے نئے دور کی شروعات ہے جہاں 'حقیقی' اور 'نقلی' کے درمیان فرق کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ کاروباری اداروں کو بھی اس حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے کیونکہ جعلی اے آئی کلون کا استعمال کرکے دھوکہ دہی کے ذریعے مالی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ ٹیکنالوجی کا مشورہ ہے کہ صارفین کو ڈیپ فیک ویڈیوز اور کالز کو پہچاننے کی مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ کسی بھی مشکوک ویڈیو میں غیر معمولی حرکت، آنکھوں کے جھپکنے کا عجیب انداز یا پس منظر کی آوازوں میں غیر مطابقت ڈیپ فیک کی نشانی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومتیں اب اس حوالے سے قانون سازی پر غور کر رہی ہیں، لیکن تاحال برطانیہ جیسے ممالک میں بھی قانون سازی کی رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی سے بہت سست ہے۔ قانونی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے ایسے قوانین لائے جائیں جو کمپنیوں کو جوابدہ بنا سکیں کہ وہ صارفین کا ڈیٹا اور ان کی ڈیجیٹل شبیہہ کیسے استعمال کر رہی ہیں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی حفاظت اب صرف ایک آپشن نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت احتیاط برتیں اور ایسے سافٹ ویئرز یا ٹولز استعمال کریں جو اے آئی کے ذریعے ہونے والی جعل سازی کی نشاندہی کر سکیں۔ مستقبل قریب میں ڈیجیٹل شناخت کا تحفظ سب سے بڑا چیلنج ہوگا، اور اس کے لیے انفرادی بیداری کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر سخت قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔