LIVE
Loading Breaking News...

ٹریوس بارکر اور کورٹنی کارداشیئن کے اسقاط حمل کے تجربات پر اہم انکشافات

News Image
معروف موسیقار ٹریوس بارکر نے اپنی دستاویزی فلم میں اسقاط حمل کے تکلیف دہ تجربات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے ان مشکل لمحات کو عوامی سطح پر لانے کے عمل کو ایک جذباتی سفر قرار دیا ہے۔
معروف امریکی موسیقار اور ڈرمر ٹریوس بارکر نے حال ہی میں اپنی نئی دستاویزی فلم کے حوالے سے جاری کردہ مناظر اور اپنے نجی تجربات پر کھل کر بات کی ہے۔ بارکر نے خاص طور پر کورٹنی کارداشیئن کے ساتھ گزرے اسقاط حمل کے تکلیف دہ لمحات کا ذکر کیا ہے جنہیں دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ مناظر ان کے لیے بہت جذباتی تھے اور ان کا مقصد صرف اپنی زندگی کی تلخ حقیقتوں کو دنیا کے سامنے لانا تھا۔ ٹریوس کا ماننا ہے کہ ایسے حساس موضوعات پر بات کرنا نہ صرف ان کے لیے تھراپی کی طرح ہے بلکہ یہ ان لوگوں کے لیے بھی ہمت کا باعث بن سکتا ہے جو اسی طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ اپنی دستاویزی فلم 'Travis Barker: Louder Than Fear' کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس فلم میں زندگی، موت اور تلافی جیسے گہرے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مشہور شخصیت ہونے کے ناطے وہ اپنی نجی زندگی کے ایسے پہلوؤں کو سامنے لانے سے نہیں گھبراتے جو انسانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ حقیقت پر مبنی شوز میں کام کرنا ان کے لیے کوئی سیکھنے کا عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس میں انہوں نے خود کو ویسا ہی پیش کیا جیسے وہ حقیقت میں ہیں۔ بارکر کے مطابق، انہوں نے کبھی بھی 'دی کارداشیئنز' شو کو باقاعدگی سے نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ ہر ایپی سوڈ کی منظوری دیتے ہیں، کیونکہ ان کا ترجیحی مقصد اپنی موسیقی اور فن کی دنیا پر توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ اسقاط حمل کے اس مشکل سفر کے دوران ٹریوس اور کورٹنی کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن دونوں نے اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔ ٹریوس کا کہنا ہے کہ ان کی دستاویزی فلم صرف ایک موسیقار کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھویا اور پایا ہے۔ مداحوں کی جانب سے اس جذباتی سچائی کو سراہا جا رہا ہے، کیونکہ بہت کم فنکار اپنی نجی زندگی کی ایسی تلخ یادوں کو کیمرے کے سامنے لانے کی ہمت کرتے ہیں۔ ٹریوس بارکر کی یہ دستاویزی فلم اب لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور ان کے مداح ان کی اس جرات مندانہ کوشش کی تعریف کر رہے ہیں۔