Politics
وزیر بجلی کا سول ڈیفنس کور کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ، سیاسی حلقوں میں تشویش
وفاقی وزیر برائے بجلی جوزف ٹیگبی نے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے سول ڈیفنس کور کے بجائے پولیس سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام نے سرکاری اداروں کے دائرہ اختیار اور کردار کے حوالے سے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بجلی جوزف ٹیگبی کی جانب سے حالیہ دنوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی اور حفاظت کے امور کے لیے سول ڈیفنس کور کو نظر انداز کر کے پولیس سے براہ راست رجوع کرنے کے اقدام نے حکومتی ایوانوں اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ نائیجیریا کے سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیر موصوف نے بجلی کی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسے وقت میں پولیس کی خدمات کو ترجیح دی ہے جب سول ڈیفنس کور طویل عرصے سے سرکاری املاک کی حفاظت کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ اس فیصلے نے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ انتظامی تبدیلی کسی پالیسی کا حصہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سول ڈیفنس کور کو اہم قومی اثاثوں کی حفاظت کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے اور ان کا دائرہ اختیار ایسے ہی حساس منصوبوں کی نگرانی کرنا ہے۔ وزیر بجلی کی جانب سے پولیس کو ترجیح دینے کے فیصلے سے سول ڈیفنس کی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کا فقدان رہا تو اس سے نہ صرف وسائل کا ضیاع ہوگا بلکہ بجلی کے انفراسٹرکچر کی حفاظت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بجلی کے بحران اور تنصیبات پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر یہ معاملہ مزید حساسیت اختیار کر گیا ہے۔
دوسری جانب، وزارتِ بجلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیر کا فیصلہ مکمل طور پر سکیورٹی کی بہتر حکمت عملی اور تنصیبات کو فول پروف بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ تاہم، اس اقدام نے سول ڈیفنس اور پولیس کے درمیان اختیارات کی جنگ کی نئی بحث کو ہوا دے دی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کو تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی اثاثوں کی حفاظت کے لیے ایک متوازن اور مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔ عوام اب حکومت سے وضاحت کے خواہاں ہیں کہ آیا یہ فیصلہ مستقل ہے یا صرف وقتی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید حکومتی وضاحتیں متوقع ہیں جو اس تنازع کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکیں گی۔