Technology
ہوائی جہازوں میں لیتھیئم آئن بیٹریوں کے خطرات اور احتیاطی تدابیر
برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لیتھیئم آئن بیٹریوں کو فضائی سفر کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات ایئر لائنز کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
جدید دور میں لیتھیئم آئن بیٹریوں کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی فضائی سفر کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔ برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے ماہر جوناتھن نکولسن کے مطابق، لیتھیئم آئن بیٹریاں گزشتہ کئی سالوں سے ایئر لائن انڈسٹری کے لیے سر فہرست تین خطرات میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیٹریاں، جو کہ ہمارے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، اور دیگر پورٹیبل الیکٹرانک ڈیوائسز میں استعمال ہوتی ہیں، اگر خراب ہو جائیں یا ان کے ساتھ مناسب احتیاط نہ برتی جائے تو یہ آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
فضائی سفر کے دوران ان بیٹریوں سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا خطرہ 'تھرمل رن وے' (Thermal Runaway) ہے، جس میں بیٹری کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے اور یہ دھماکے کے ساتھ آگ پکڑ لیتی ہے۔ ہوائی جہاز کے اندرونی ماحول میں ایسی آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بیٹریاں بہت زیادہ درجہ حرارت پیدا کرتی ہیں اور ان سے زہریلا دھواں خارج ہوتا ہے جو عملے اور مسافروں کے لیے فوری طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایئر لائن کمپنیاں اور عالمی ہوابازی ادارے مسافروں کو اپنی الیکٹرانک ڈیوائسز کو چیک ان سامان کے بجائے اپنے ہینڈ کیری (کیبن) میں رکھنے کی سختی سے ہدایت کرتے ہیں۔
اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) نے بھی کارگو طیاروں میں ان بیٹریوں کی نقل و حمل کے حوالے سے سخت ضابطہ اخلاق وضع کیے ہیں۔ ایئر لائنز اب مسافروں پر زور دے رہی ہیں کہ وہ سفر کے دوران ڈیوائسز کو بند رکھیں، انہیں حادثاتی طور پر دبنے سے بچائیں اور اگر کوئی ڈیوائس دورانِ پرواز گرم محسوس ہو تو فوری طور پر فلائٹ اٹینڈنٹ کو مطلع کریں۔ تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باوجود، لیتھیئم آئن بیٹریوں کی کیمیکل کمپوزیشن انہیں آگ پکڑنے کے حوالے سے حساس بناتی ہے، جس کے لیے مسلسل نگرانی اور جدید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
آخر میں، مسافروں کا تعاون فضائی حفاظت کے لیے سب سے اہم ہے۔ اگر ہر مسافر اپنی الیکٹرانک ڈیوائسز کو محفوظ طریقے سے پیک کرے اور ایئر لائنز کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کرے، تو ان بیٹریوں سے ہونے والے ممکنہ حادثات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ایوی ایشن حکام کا عزم ہے کہ وہ مستقبل میں مزید سخت حفاظتی معیارات نافذ کریں گے تاکہ فضائی سفر کو ہر صورت میں محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔