LIVE
Loading Breaking News...

نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی: لیبر پارٹی کا منصوبہ شدید تنقید کی زد میں

News Image
برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت کی جانب سے 16 اور 17 سالہ نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کرفیو کے مجوزہ منصوبے کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ سروے رپورٹس کے مطابق تقریباً 80 فیصد نوجوانوں نے کہا ہے کہ وہ اس پابندی کو ماننے کے بجائے اسے نظرانداز کر دیں گے۔
برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کرفیو متعارف کروانے کے ارادے بری طرح ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد، جو کہ تقریباً 80 فیصد بنتی ہے، نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی کسی بھی سوشل میڈیا پابندی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کرفیو یا سخت قوانین نافذ کیے تو وہ اسے نظرانداز کر دیں گے یا متبادل ذرائع تلاش کر لیں گے۔ حکومت کے اس مجوزہ اقدام کا مقصد نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنا اور انہیں ممکنہ خطرات سے بچانا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی زمینی حقائق سے دور ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی پابندیاں نہ صرف ناقابل عمل ہیں بلکہ نوجوانوں میں حکومت کے خلاف مزید بے چینی کا باعث بھی بنیں گی۔ حکومت کے اپنے وزراء نے گزشتہ ماہ اس منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت نوعمروں کو ایک خاص وقت کے بعد آن لائن پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکنا مقصود تھا۔ تاہم، تازہ ترین عوامی ردعمل نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا یہ منصوبہ پارلیمنٹ میں پیش بھی کیا جا سکے گا یا نہیں۔ دوسری جانب سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی پر پابندیاں لگانے کے بجائے نوجوانوں کو ڈیجیٹل خواندگی اور ذمہ دارانہ استعمال سکھانا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے سخت قوانین سے نوجوانوں کی پرائیویسی اور ان کی آزادیِ اظہار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ابھی تک حکومت کی جانب سے ان سروے نتائج پر کوئی باقاعدہ تردید یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سیاسی ماہرین اسے لیبر پارٹی کی سوشل میڈیا پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا حکومت اپنے اس متنازع فیصلے پر قائم رہتی ہے یا عوامی دباؤ کے پیش نظر اس میں کوئی بڑی تبدیلی لاتی ہے۔