Technology
ویمو: خودکار گاڑیوں میں کیمرہ اور لیڈار کی اہمیت
ویمو کے سی ای او نے واضح کیا ہے کہ صرف کیمرہ پر انحصار کرنے والی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی مکمل خود مختار گاڑیوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈار اور ریڈار کا استعمال محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
خودکار گاڑیوں کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں ویمو (Waymo) کے سی ای او نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ صرف کیمرہ پر مبنی سیلف ڈرائیونگ سسٹم مکمل طور پر خود مختار گاڑیوں کے لیے کبھی بھی کافی ثابت نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق، اگرچہ کیمرہ انسانی ڈرائیونگ کے تجربے کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ کبھی بھی انسانوں کی طرح پیچیدہ سڑکوں پر اعتماد کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ بیان ان کمپنیوں کے لیے ایک چیلنج ہے جو صرف کیمرہ ویژن پر مبنی سستی خودکار ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔
ویمو کے سی ای او کا مزید کہنا ہے کہ لیڈار (Lidar) اور ریڈار (Radar) جیسی جدید سینسنگ ٹیکنالوجیز محض ایک فالتو حفاظتی اقدام نہیں ہیں، بلکہ یہ سڑکوں پر موجود حالات کا درست اندازہ لگانے کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔ ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب گاڑی کو ہر موسم، روشنی کی کمی، اور سڑک پر اچانک آنے والی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو صرف کیمرہ سسٹم غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیڈار لیزر کے ذریعے گاڑی کے ارد گرد کا تھری ڈی نقشہ تیار کرتا ہے، جس سے خود مختار سسٹم کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کوئی چیز کس فاصلے پر اور کتنی رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ ویمو کا یہ موقف ان کمپنیوں کے برعکس ہے جو لاگت کم کرنے کے لیے صرف کیمرہ پر انحصار کرتی ہیں۔ ویمو کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خودکار ٹیکسیوں (Robotaxis) کی دنیا میں سخت مقابلہ جاری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے ٹیکنالوجی کا فول پروف ہونا ضروری ہے، اور اس کے لیے ملٹی سینسر سیٹ اپ ہی واحد قابل اعتماد راستہ ہے۔ مستقبل میں مکمل خود مختار ڈرائیونگ کے حصول کے لیے یہ بحث مزید شدت اختیار کرے گی کہ آیا صرف سافٹ ویئر اور کیمرہ کافی ہیں یا ہارڈویئر کی مضبوطی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔