World
واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حدود کی خلاف ورزی: مرین ون اور کمرشل طیارہ آمنے سامنے
امریکی صدر کے ہیلی کاپٹر 'مرین ون' کی آمد کے وقت ایک کمرشل طیارے کو اڑنے کی اجازت دینے پر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ واشنگٹن ڈی سی کے انتہائی مصروف فضائی حدود میں سیکیورٹی کے معیار پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حدود کی سیکیورٹی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے جب ایک حالیہ واقعے میں ایک کمرشل طیارے کو اس وقت ٹیک آف کرنے کی اجازت دی گئی جب امریکی صدر کے ہیلی کاپٹر 'مرین ون' کی ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر آمد متوقع تھی۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے اس سنگین واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح ایک انتہائی حساس سیکیورٹی پروٹوکول کے دوران ایک نجی یا تجارتی طیارے کو رن وے استعمال کرنے کی اجازت ملی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی فضائی حدود دنیا کی مصروف ترین اور سخت ترین فضائی حدود میں شمار ہوتی ہے، جہاں صدارتی نقل و حرکت کے دوران انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اس واقعے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ٹریفک کنٹرول کرنے والے عملے کی جانب سے غلطی ہوئی یا مواصلاتی نظام میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ اس طرح کی کوتاہی صدارتی سیکیورٹی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور فضائی حادثات کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔
اس واقعے کے بعد سے واشنگٹن کی فضائی حدود میں موجود ٹریفک کے دباؤ اور اس کے انتظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ریگن نیشنل ایئرپورٹ شہر کے مرکز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے پہلے ہی انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، اور اس طرح کے واقعات مستقبل میں مزید سخت حفاظتی اقدامات یا ہوائی اڈوں پر ٹریفک کے ضوابط میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ اس طرح کے سیکیورٹی نقائص دوبارہ پیش نہ آئیں۔