World
نیو میکسیکو طیارہ حادثہ اور جی پی ایس جامنگ کے اثرات کی تحقیقات
مئی 2026 میں نیو میکسیکو میں پیش آنے والے ایک نجی میڈیکل طیارے کے مہلک حادثے کی تحقیقات جاری ہیں جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا امریکی فوج کی جانب سے جی پی ایس سگنل کی جامنگ اس المناک واقعے کا باعث بنی۔
مئی 2026 میں ریاست نیو میکسیکو میں پیش آنے والا ایک نجی میڈیکل ٹرانسپورٹ طیارہ حادثہ اس وقت عالمی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے جب تحقیقاتی اداروں نے اس بات کی گہرائی سے جانچ شروع کی ہے کہ آیا اس حادثے کا براہ راست تعلق امریکی فوج کی جانب سے کیے جانے والے جی پی ایس سگنلز کی جامنگ سے ہے۔ اس المناک حادثے میں چار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جس کے بعد سے ایوی ایشن کے ماہرین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا جدید عسکری ٹیکنالوجی کے غیر متوقع اثرات عام پروازوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیموں کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، حادثے کے وقت علاقے میں امریکی فوج کی جانب سے سگنل جامنگ کی ایک مشق کی جا رہی تھی، جس کے اثرات شہری فضائی حدود تک پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ایوی ایشن سیفٹی کے معیارات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ان حساس علاقوں میں جہاں فوجی مشقیں اور سویلین فضائی ٹریفک ایک ساتھ موجود ہوں۔ اگرچہ حکام ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں، لیکن اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ طیارے کے کاک پٹ کے اندر موجود نیویگیشن سسٹم میں حادثے سے قبل خرابی پیدا ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے ہوائی جہاز کے خودکار نظام اور پائلٹ کی رہنمائی کے آلات شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے شدید موسم یا پیچیدہ جغرافیائی حالات میں طیارے کو کنٹرول کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں نیو میکسیکو کا پہاڑی علاقہ بھی ایک اہم عنصر ثابت ہو سکتا ہے جہاں بصری رابطے کے بغیر پرواز کرنا پہلے ہی ایک چیلنج ہے۔ امریکی محکمہ دفاع اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) مشترکہ طور پر اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فوجی کارروائیوں اور نجی پروازوں کے درمیان رابطہ کاری میں کہاں کمی رہ گئی۔ اس تحقیقات کے نتائج کا نہ صرف اس حادثے کی ذمہ داری کا تعین کرنے میں اہم کردار ہوگا، بلکہ مستقبل میں فوجی مشقوں کے دوران سویلین فضائی حدود کی حفاظت کے لیے نئے اور سخت قواعد و ضوابط کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ فی الحال، طیارہ ساز کمپنی اور ایوی ایشن ماہرین کی جانب سے ڈیٹا ریکارڈرز کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ کیا طیارہ بالکل ٹھیک کام کر رہا تھا اور کیا جی پی ایس سگنل میں رکاوٹ کا اس کی پرواز پر کوئی اثر پڑا تھا۔