Business
امریکی شیئرز: ڈاؤ جونز ریکارڈ سطح پر، نیس ڈیک میں مندی کی وجہ کیا؟
بدھ کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ملی جلی صورتحال رہی جہاں ڈاؤ انڈسٹریل ایوریج ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ دوسری جانب اسپیس ایکس اور اے ایم ڈی کے سہ ماہی نتائج کے بعد ٹیکنالوجی انڈیکس نیس ڈیک میں پانچ دنوں بعد گراوٹ دیکھی گئی۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کے روز غیر معمولی کاروباری سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں ایک جانب ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج نے ریکارڈ بلندی کو چھو لیا، وہیں دوسری جانب ٹیکنالوجی سیکٹر کے بڑے ناموں کی کمزور کارکردگی نے نیس ڈیک انڈیکس کو شدید دباؤ میں رکھا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈاؤ جونز میں اس تیزی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حوالے سے پیدا ہونے والی نئی امیدیں ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اطلاعات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے، جس کے اثرات صنعتی اور روایتی شعبوں کے حصص میں نمایاں نظر آئے۔ اگرچہ ڈاؤ جونز نے نئی تاریخ رقم کی، تاہم ٹیکنالوجی انڈیکس نیس ڈیک کے لیے دن کافی مایوس کن رہا۔ نیس ڈیک گزشتہ پانچ تجارتی سیشنز سے مسلسل اوپر کی جانب گامزن تھا، لیکن بدھ کو یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس گراوٹ کی بڑی وجہ اسپیس ایکس اور اے ایم ڈی کے سہ ماہی مالیاتی نتائج رہے، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق نہیں تھے۔ ان کمپنیوں کے حصص میں مندی کے باعث سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی اسٹاکس سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے، جس کا اثر پورے انڈیکس پر نمایاں رہا۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کی یہ ملی جلی کیفیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال جیو پولیٹیکل حالات اور کارپوریٹ آمدنی کے رپورٹس کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششیں اگر بار آور ثابت ہوئیں تو اس سے عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کمپنیوں کے سہ ماہی مالیاتی گوشواروں پر گہری نظر رکھیں کیونکہ یہ اعداد و شمار مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔