LIVE
Loading Breaking News...

میر علی رضا کیس: قبر کشائی کے لیے تیسرا میڈیکل بورڈ تشکیل

News Image
سندھ حکومت نے میر علی رضا کی موت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تیسرا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ عدالت نے قبر کشائی کی اجازت دے دی ہے جبکہ لواحقین انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔
سندھ حکومت نے میر علی رضا کی پراسرار موت کے معاملے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے تیسرے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل قائم کیے گئے بورڈز کے نتائج پر اٹھنے والے تحفظات اور لواحقین کی جانب سے مسلسل مطالبات کے بعد حکام نے اس معاملے کو مزید شفاف بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، عدالت نے بھی میر علی رضا کی میت کی قبر کشائی کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے تاکہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ میر علی رضا کے والد نے اس پورے عمل کے دوران انصاف کے حصول کے لیے آواز اٹھائی ہے اور حکومتی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طبی رپورٹ اور پولیس کی تفتیشی کارروائی میں تضادات پائے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کیس کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں اور اب تک کی کارروائی میں کئی اہم شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران جائے وقوعہ سے کارتوس کا خول بھی برآمد کیا گیا ہے جو کیس کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کیس میں قبر کشائی کے عمل میں تاخیر نے عوام اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ تیسرے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا مقصد کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش کو ختم کرنا ہے تاکہ میر علی رضا کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالتی نگرانی میں ہونے والی یہ قبر کشائی کیس کے رخ کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ آنے والے دنوں میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجوہات کا باضابطہ انکشاف ہو سکے گا، جس کا دارومدار اب فرانزک رپورٹس اور ماہرین کی رائے پر ہے۔ علاقائی سطح پر اس معاملے نے ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ تحقیقات کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ میر علی رضا کے ورثا کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ تیسرے بورڈ کی تشکیل سے تحقیقات میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔