LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان

News Image
گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہفتے کے روز سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی اور بھاری جرمانے ختم کیے جائیں۔
پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز نے ہفتے کے روز سے مکمل پہیہ جام ہڑتال کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ تنظیموں کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مطالبات کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی گئی ہے، جس کے بعد ہمارے پاس احتجاج اور ہڑتال کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ اس ہڑتال کے نتیجے میں ملک بھر میں مال برداری کا نظام بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل رک سکتی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مرکزی رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی تبدیلیوں اور ٹریفک پولیس کی جانب سے عائد کیے جانے والے غیر معمولی اور بھاری جرمانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل سے کاروبار کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ حکومت نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں استحکام لائے بلکہ ان جرمانوں کو بھی فوری طور پر ختم کیا جائے جو بلاوجہ ٹرانسپورٹرز پر عائد کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، پیٹرولیم ڈیلرز نے بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 10 اگست کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں ملک گیر ہڑتال کے آپشن پر غور کیا جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ معاملات حل نہ کیے تو ملک میں مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے اور سپلائی چین کے متاثر ہونے سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال ٹرانسپورٹ تنظیموں نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات کا تحریری نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی، ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں اپنی گاڑیوں کو مختلف شاہراہوں پر کھڑا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے ٹریفک کا نظام بھی بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ملک کی تاجر برادری نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ ملکی معیشت مزید نقصان سے بچ سکے۔