World
آبنائے ہرمز سیکیورٹی: امریکہ اور یورپی ممالک میں حکمت عملی کا اختلاف
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کے نام پر ایک نئے بحری اتحاد کے قیام کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ تاہم یورپی ممالک اس معاملے پر گومگو کا شکار ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایک نئے بحری اتحاد کے قیام پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم یورپ کے بڑے ممالک نے اس تجویز پر شدید ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران کی جانب سے تیل بردار جہازوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایک مربوط فوجی کارروائی ضروری ہے تاکہ سمندری راستوں کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ اپنے اتحادیوں کو ایک ایسے بحری مشن میں شامل کرنا چاہتا ہے جو براہ راست خطے کی سیکیورٹی کو مانیٹر کر سکے۔
دوسری جانب یورپی طاقتیں اس امریکی اقدام کے حوالے سے کافی محتاط دکھائی دے رہی ہیں۔ فرانس، جرمنی اور دیگر اہم یورپی ممالک کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا سخت مؤقف اختیار کرنے سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جوہری معاہدے اور دیگر سفارتی مسائل کے حل کے لیے 'ڈی ایسکلیشن' یعنی کشیدگی میں کمی کی پالیسی ہی واحد راستہ ہے۔ یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی قیادت میں چلنے والا کوئی بھی عسکری مشن ایران کے ساتھ براہ راست تصادم کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تیل کی منڈیوں پر انتہائی تباہ کن ہوں گے۔
ماہرینِ امورِ خارجہ کے مطابق یورپی ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی بھی ہے، جس سے یورپ متفق نہیں ہے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ مشن خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہوگا، یورپ اسے ایک ایسے قدم کے طور پر دیکھ رہا ہے جو خطے میں ایران کو مزید الگ تھلگ کر سکتا ہے۔ یورپی ممالک کے حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری سیکیورٹی کے معاملات کو فوجی طاقت کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔
فی الحال صورتحال تعطل کا شکار ہے کیونکہ امریکہ اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ یورپ اس معاملے میں کسی بھی ایسی صف بندی سے گریز کر رہا ہے جو خطے میں نئی جنگی آگ بھڑکا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکہ اپنے اتحادیوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا یورپی ممالک اپنی خود مختار سفارتی حکمت عملی پر قائم رہتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کروانے کے لیے کوئی نیا منصوبہ پیش کرتے ہیں۔