Technology
گوگل نے صارفین کی جانب سے غلط استعمال پر ارتھ اے آئی فیچر بند کردیا
گوگل نے اپنے ارتھ اے آئی فیچر کو متعارف کرانے کے محض چوبیس گھنٹوں کے اندر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب صارفین کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی اور نامناسب تصاویر تخلیق کی گئیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی گوگل نے اپنے ایک نئے اور اہم فیچر 'ارتھ اے آئی' کو متعارف کرانے کے محض ایک دن کے اندر ہی عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ صارفین اس نئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے مختلف مقامات کی جعلی، گمراہ کن اور نامناسب تصاویر تخلیق کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس فیچر کے ذریعے سیٹلائٹ کی مدد سے زمین کے کسی بھی مقام کو تبدیل کرنے کے تجربات کیے جا رہے تھے، جنہیں نینو بناں کا نام بھی دیا گیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کی رونمائی کے فورا بعد ہی سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر وائرل ہونا شروع ہو گئیں جو سراسر حقیقت کے منافی تھیں اور ان میں جعلی مناظر دکھائے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس آن لائن رجحان کے دوران کئی صارفین نے ایسے جعلی مناظر بھی پھیلا دیئے جن میں اہم سرکاری عمارتوں اور مقامات کو ڈوبتے ہوئے یا تباہ شدہ حالت میں دکھایا گیا، جس سے سکیورٹی اور فیک نیوز کے حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ان جعلی سیٹلائٹ تصاویر کے باعث عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ تھا، اور ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ اس قسم کے ڈیپ فیکس آسمانی نگرانی اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان ہی بڑھتے ہوئے خدشات اور تنقید کے پیش نظر گوگل نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے اس فیچر کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مزید بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے۔
گوگل کی جانب سے فیچر کو روکے جانے کے بعد سے ٹیکنالوجی کے حلقوں میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال اور حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو کوئی بھی نیا فیچر مارکیٹ میں لانے سے پہلے اس کے ممکنہ منفی اثرات اور غلط استعمال کے تدارک کے لیے زیادہ سخت حفاظتی اور فلٹرنگ کے نظام بنانے چاہئیں۔ ت حال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس فیچر کو دوبارہ کب اور کن نئی اصلاحات کے ساتھ بحال کیا جائے گا، لیکن کمپنی کی جانب سے فی الحال اس پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے تاکہ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔