LIVE
Loading Breaking News...

فیڈرل ریزرو تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا لیزا کک کے خلاف ایکشن

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دوبارہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدام ٹرمپ کے شرح سود میں تیزی سے کمی کے مطالبے اور فیڈرل ریزرو کے مؤقف میں جاری تناؤ کا نتیجہ ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ معاملہ صدر ٹرمپ اور فیڈرل ریزرو کے حکام کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا ایک نیا موڑ ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ معاشی پالیسیوں، خاص طور پر شرح سود کے تعین میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ فیڈرل ریزرو کو افراط زر کے خطرات کے باوجود شرح سود میں تیزی سے کمی کرنی چاہیے، تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے اراکین، بشمول لیزا کک، اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی کے فیصلوں میں خود مختاری انتہائی ضروری ہے۔ لیزا کک کو عہدے سے ہٹانے کی کوششوں کو واشنگٹن میں سیاسی اور معاشی حلقوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے امریکی مرکزی بینک کی ساکھ اور آزادی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، جو کہ عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بھی ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیڈرل ریزرو میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ لیزا کک کے خلاف اس مہم کے نتیجے میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا صدر کو فیڈرل ریزرو کے گورنرز کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے یا نہیں۔ فیڈرل ریزرو کے قوانین کے تحت گورنرز کو صرف "جائز وجوہات" کی بنیاد پر ہی عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے، جبکہ سیاسی اختلاف کو قانونی جواز نہیں مانا جاتا۔ اس تنازع سے نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ اور مرکزی بینک کے درمیان خلیج وسیع ہوئی ہے بلکہ اس نے امریکی معاشی فیصلوں کے شفافیت کے عمل پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔