LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں کشیدگی، اسرائیلی حملوں میں مزید فلسطینی زخمی

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران طبی عملے کے ارکان سمیت کم از کم چھ فلسطینی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ رواں برس جنوری سے اب تک فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی کی تازہ لہر کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں طبی عملے کے ارکان سمیت کم از کم چھ فلسطینی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع اور طبی حکام کے مطابق یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ زخمی ہونے والوں میں وہ طبی امداد فراہم کرنے والے افراد بھی شامل ہیں جو متاثرہ مقامات پر امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے، جس سے علاقے میں طبی خدمات کی فراہمی میں مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ فلسطینی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنوری سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں اور کارروائیوں کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ سنگین اعداد و شمار اس خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور تشدد کے واقعات کی عکاسی کرتے ہیں جو مقامی آبادی کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ حملوں کے ان واقعات میں گھروں پر چھاپے، گرفتاریوں کے دوران ہونے والی جھڑپیں اور عام شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال شامل ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مغربی کنارے میں مسلسل بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی قیادت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کے باعث نہ صرف سکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی ہے بلکہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے بھی فرائض کی انجام دہی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم ان واقعات نے ایک بار پھر خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر تشدد کا یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ مقامی فلسطینی آبادی اپنے تحفظ کے لیے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ اسرائیلی جارحیت کو روکا جا سکے اور طبی عملے سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکے۔