Business
ٹینوبو لائٹ انیشیٹو: 10 لاکھ کاروباروں کو سولر توانائی کی فراہمی
وفاقی حکومت نے 'ٹینوبو لائٹ انیشیٹو' کے تحت دس لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ ملکی معیشت کی ترقی اور پائیدار توانائی کے حصول میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
وفاقی حکومت نے معاشی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے اور چھوٹے کاروباری شعبے کو درپیش توانائی کے بحران سے نجات دلانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 'ٹینوبو لائٹ انیشیٹو' کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک بھر میں موجود دس لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (MSMEs) کو سستی اور قابل تجدید توانائی فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ توانائی کی بلاتعطل فراہمی کے بغیر ملکی معیشت کی بحالی ممکن نہیں، اسی لیے سولر اور دیگر صاف ستھری توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت چھوٹے تاجروں کو جدید سولر ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ماحول کو بھی کاربن کے اخراج سے محفوظ رکھا جا سکے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام ان کاروباری اداروں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا جو مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث اپنی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف توانائی کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ اسے ایک پائیدار معاشی ماڈل کے طور پر بھی پیش کر رہی ہے۔
اس اقدام سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے، کیونکہ جب چھوٹے کاروباروں کو سستی توانائی ملے گی تو وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لا سکیں گے اور عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بن سکیں گے۔ وفاقی حکومت اس پروگرام کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے تاکہ شفاف طریقے سے سولر سسٹمز کی تنصیب اور تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہیں اور اس سے نہ صرف صنعتی شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔