World
نائجیریا میں ایوی ایشن فنڈنگ کا بحران اور پارلیمانی مداخلت
نائجیریا کے ہوابازی کے شعبے میں فنڈنگ کا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایوان نمائندگان نے ٹکٹ سیلز چارج کی تقسیم کے فارمولے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان نے نائجیریا ایئر اسپیس مینجمنٹ ایجنسی کی حمایت کرتے ہوئے حکومتی سطح پر نئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نائجیریا میں ہوابازی کے شعبے میں مالیاتی فنڈنگ کا تنازعہ اس وقت ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے جب ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز نے اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تنازعہ بنیادی طور پر ٹکٹ سیلز چارج (Ticket Sales Charge) کی تقسیم کے فارمولے کے گرد گھوم رہا ہے، جس پر نائجیریا ایئر اسپیس مینجمنٹ ایجنسی (NAMA) نے طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ تقسیم کا نظام ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے اور اس میں فوری اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز کی جانب سے اس مسئلے پر فعال کردار ادا کرنے کا فیصلہ ایجنسی کی جانب سے کیے گئے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ قانون سازوں کا ماننا ہے کہ اگر ہوابازی کے شعبے کو خود کفیل اور محفوظ بنانا ہے تو فنڈز کی تقسیم کے موجودہ فارمولے کو بدلنا ہوگا۔ اس کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہوابازی کا شعبہ معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور فنڈز کی شفاف اور منصفانہ تقسیم اس شعبے کی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔ ایوان نے متعلقہ فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ایسا جامع لائحہ عمل تیار کریں جو تمام ایجنسیوں کے مفادات کو تحفظ دے سکے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ صرف مالیاتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا بھی ہے۔ نائجیریا کے ایوی ایشن سیکٹر میں پہلے ہی انفراسٹرکچر کی کمی اور ہوائی اڈوں کی دیکھ بھال کے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ حکام نے اس فارمولے پر بروقت فیصلہ نہ کیا تو اس کے منفی اثرات مسافروں کی سہولیات اور ہوائی خدمات کے معیار پر پڑ سکتے ہیں۔ ایوان نمائندگان کی مداخلت سے امید کی جا رہی ہے کہ فنڈنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک متفقہ اور پائیدار حل نکل آئے گا جو مستقبل میں اس شعبے کو مزید مستحکم بنا سکے۔