Pakistan
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر پاکستان کا موقف
پاکستان نے آبنائے ہرمز کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت تیز کر دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ ملک آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خطے میں سمندری تجارت اور نقل و حمل کی حفاظت پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے انتہائی اہم ہے، لہذا موجودہ صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت پاکستان تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور طاقت کا استعمال خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ اس اہم تجارتی راستے پر کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے جو کہ توانائی کی ترسیل کے لیے عالمی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں کسی بھی قسم کی مسلح تصادم کی بجائے قیامِ امن کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس کوشش کو تیز کر دیا ہے کہ کشیدگی کو کم کر کے حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔ پاکستانی قیادت کا یہ ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام ہی اقتصادی خوشحالی اور علاقائی ترقی کی ضمانت ہے، اس لیے پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگی صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔