World
یوکرین میں طبی عملے پر حملے: ہسپتال اور ایمبولینسیں غیر محفوظ
یوکرین کے ہنگامی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں اور ایمبولینسوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے روسی حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ میں انسانیت بچانے والوں کو ہی ہدف بنایا جا رہا ہے جس سے امدادی سرگرمیاں انتہائی مشکل ہو چکی ہیں۔
یوکرین میں جاری تباہ کن جنگ کے دوران انسانیت کو بچانے والے طبی عملے کے ارکان نے ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق روسی افواج کی جانب سے ہسپتالوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے پیرامیڈیکس اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی جان بچانے کے لیے ہر لمحہ خوف کے سائے میں کام کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے تعاقب میں روسی ڈرونز ہر وقت فضا میں منڈلاتے رہتے ہیں۔ ایک طبی کارکن نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ اسے اس لیے بھاگنا پڑا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اگر وہ وہاں رک گیا تو ڈرون حملہ اسے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح میدانِ جنگ میں غیر جانبدار طبی سہولیات بھی براہ راست فوجی اہداف بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی عملے اور ہسپتالوں کو تحفظ حاصل ہے، لیکن یوکرین میں جاری یہ حملے ان تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے انہیں انتہائی غیر محفوظ بنا دیا ہے، کیونکہ اب ایمبولینسوں کو بھی ڈرونز کے ذریعے ٹریک کر کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں نہ صرف طبی عملہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہا ہے بلکہ ان مریضوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے جو شدید زخمی حالت میں علاج کے منتظر ہوتے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، روسی فوج کی یہ حکمت عملی دراصل امدادی سرگرمیوں کو مفلوج کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ زخمی فوجیوں اور عام شہریوں کو بروقت طبی امداد نہ مل سکے۔ اس صورتحال نے عالمی برادری میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اسے جنگی جرائم کے زمرے میں دیکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یوکرینی طبی ٹیمیں اب بہت زیادہ محتاط ہو چکی ہیں اور کئی مقامات پر انہیں رات کے اندھیرے میں بغیر لائٹس جلائے کام کرنا پڑ رہا ہے تاکہ وہ ڈرون کیمروں کی نظروں سے بچ سکیں۔ تاہم، یہ احتیاطی تدابیر بھی جان بچانے کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔ یوکرین کے طبی مراکز اور ایمبولینس ڈرائیوروں کا مطالبہ ہے کہ عالمی سطح پر اس سنگین مسئلے کو اٹھایا جائے تاکہ ان ہیروز کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جو گولہ باری کے درمیان انسانی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔