LIVE
Loading Breaking News...

لندن میں جنسی مجرم کا دو خواتین کو قتل: برطانوی میڈیا میں چرچے

News Image
لندن کی ایک عدالت نے ایک خطرناک جنسی مجرم کو دو خواتین کے قتل اور ایک خاتون سے زیادتی کا مجرم قرار دے کر سزا سنا دی ہے۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ میں قیدیوں کی رہائی کے قوانین اور سیکیورٹی انتظامات پر بحث چھڑ گئی ہے۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن سے سامنے آنے والے ایک خوفناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک سفاک جنسی درندے کو دو خواتین کے قتل اور ایک تیسری خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔ برطانوی اخبارات کی آج کی شہ سرخیوں میں اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں عدالتی نظام اور قیدیوں کی رہائی کے عمل پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مجرم پہلے بھی سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے، تاہم اسے رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس نے دوبارہ خون کی ہولی کھیلی۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ میں سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جنسی مجرموں کی رہائی کے قوانین کو مزید سخت کیا جائے۔ اخبارات کے مطابق، حکومتی سطح پر ہونے والی یہ کوتاہی عوام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس مقدمے کے فیصلے کے بعد یہ بحث بھی زور پکڑ گئی ہے کہ کیا موجودہ نظام انصاف متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، بالخصوص جب کسی ایسے شخص کو کھلی چھٹی دی جائے جس کا ماضی خطرناک جرائم سے بھرا ہوا ہو۔ ایک طرف جہاں اس مجرم کو قرار واقعی سزا ملنے پر کچھ اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف برطانوی حکومت کی جانب سے نیٹ زیرو کے اہداف میں نرمی اور تبدیلی کے اعلانات بھی اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت ایک ساتھ کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے، جس میں ایک طرف مجرمانہ قانون سازی کا فقدان ہے تو دوسری طرف معاشی اور ماحولیاتی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے باعث عوام کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ واقعے کی سنگینی اس بات سے واضح ہے کہ متاثرہ خواتین کے اہل خانہ نے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'حکومتی غفلت' قرار دیا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ میں پیرول اور رہائی کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ معاشرے کو ایسے درندوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ کیس آنے والے دنوں میں برطانوی پارلیمنٹ میں بھی بحث کا موضوع بنے گا، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت سے جواب طلبی کرنے کے لیے تیار ہیں۔