World
سوڈان خانہ جنگی: 80 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم، اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے باعث 80 لاکھ سے زائد بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ جنگ نے ملک کے تعلیمی ڈھانچے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے جس سے ایک پوری نسل کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی نے ملک کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس طویل جنگ نے ملک کے تقریباً تین چوتھائی اسکولوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کی ہولناکیوں کے باعث 80 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں، جو کہ ملکی تاریخ کا ایک بڑا تعلیمی المیہ ہے۔
ماہرین تعلیم اور عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی بندش صرف فوری تعلیمی نقصان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی نسل کو جنم دے رہی ہے جو بنیادی تعلیم اور ہنر سے محروم رہے گی۔ اسکولوں کی عمارتیں یا تو تباہ کر دی گئی ہیں، یا انہیں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے دوبارہ تعلیم کا آغاز ایک مشکل ترین چیلنج بن چکا ہے۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو نہ صرف تعلیم سے دوری کا سامنا ہے بلکہ وہ تحفظ کی کمی اور نفسیاتی دباؤ کا بھی شکار ہیں جو ان کی ذہنی نشوونما کو مستقل طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ سوڈان میں تعلیمی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ اسکولوں کو بحال کرنے اور بچوں کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے فنڈز اور وسائل کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسل کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔ اگر یہ صورتحال مزید کچھ عرصہ برقرار رہی تو سوڈان میں انسانی وسائل کا بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جنگ کے فریقین تعلیمی اداروں کو غیر سیاسی اور محفوظ قرار دیں تاکہ ملک کے مستقبل کے معماروں کا تعلیمی سفر دوبارہ شروع ہو سکے۔