LIVE
Loading Breaking News...

روس پر امریکی پابندیاں: تیل اور گیس کی درآمد پر 100 فیصد ٹیرف عائد

News Image
امریکی سینیٹ نے یوکرین میں جاری کشیدگی کے تناظر میں روس کے خلاف ایک جامع اقتصادی پابندیوں کا بل منظور کر لیا ہے۔ اس قانون سازی کے تحت روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والوں پر سو فیصد محصولات عائد کیے جائیں گے۔
واشنگٹن میں امریکی سینیٹ نے ایک اہم اور فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے یوکرین میں جاری جنگ کے تناظر میں روس کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئی قانون سازی کا بنیادی مقصد روس کی جنگی مشینری کے لیے مالی وسائل کو محدود کرنا اور اسے عالمی معیشت سے مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔ امریکی قانون سازوں کے مطابق، یہ اقدام روس کو یوکرین میں فوجی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد روس کی معیشت، خاص طور پر اس کے توانائی کے شعبے پر شدید دباؤ بڑھنے کی توقع ہے جو کہ کریملن کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نئے منظور شدہ قانون کے تحت روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والی کمپنیوں اور تاجروں پر 100 فیصد ٹیرف (محصولات) عائد کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام درحقیقت روسی توانائی کی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مہنگا بنا کر غیر منافع بخش بنانے کی ایک حکمت عملی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں روس کی اس صلاحیت کو براہ راست نشانہ بناتی ہیں جس سے وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے فنڈز حاصل کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے روس پر کئی قسم کی پابندیاں لگائی ہیں، لیکن توانائی کے شعبے پر یہ سو فیصد ٹیکس اب تک کی سب سے جارحانہ معاشی کارروائی تصور کی جا رہی ہے۔ اس قانون سازی کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچنے کا امکان ہے، کیونکہ روس دنیا کے بڑے تیل اور گیس برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس پابندی سے امریکہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرے گا، تاہم اس کا اثر عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ جمہوریت اور بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کے لیے ایسی قربانیاں دینا ضروری ہیں تاکہ روس کو اس کی جارحیت سے روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اس بل پر دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی حیثیت اختیار کر لے گا اور فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ عالمی سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو یوکرین کی جنگ کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ روس کی جانب سے ابھی تک اس نئی قانون سازی پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں روس ایسی پابندیوں کو غیر قانونی اور معاشی دہشت گردی قرار دیتا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ماسکو اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا جوابی حکمت عملی اپناتا ہے۔