LIVE
Loading Breaking News...

چپ سازی کی عالمی دوڑ: چین کا نیا اقدام اور سیمی کنڈکٹر کی نئی تعریف

News Image
چین کی سٹیٹ کونسل نے انٹیگریٹڈ سرکٹ لے آؤٹ ڈیزائن ریگولیشنز میں ترمیم کرتے ہوئے سیمی کنڈکٹر کی اصطلاح کو ضابطہ اخلاق سے حذف کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد چین نے تکنیکی طور پر خود کو عالمی سطح پر چپ مینوفیکچرنگ کی سب سے بڑی طاقت قرار دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
چین کی سٹیٹ کونسل نے حال ہی میں اپنے انٹیگریٹڈ سرکٹ لے آؤٹ ڈیزائن ریگولیشنز میں ایک اہم اور حیران کن ترمیم کی ہے جس نے عالمی ٹیکنالوجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومتی دستاویزات سے 'سیمی کنڈکٹر انٹیگریٹڈ سرکٹ' کے الفاظ کو حذف کرنے کا مقصد چپ سازی کی صنعت کی نئی تعریف وضع کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کے ذریعے بیجنگ نے نہ صرف اپنی مقامی صنعت کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے بلکہ تکنیکی طور پر خود کو دنیا کی صف اول کی چپ بنانے والی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نئے ضابطے کے تحت اب بہت سے ایسے آلات اور سسٹمز بھی سیمی کنڈکٹر کی درجہ بندی میں آ سکتے ہیں جو پہلے اس تعریف سے باہر تھے۔ اس فیصلے کے پس منظر میں چین کی جانب سے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کارفرما ہے۔ طویل عرصے سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک چین کی جدید ترین چپ ٹیکنالوجی تک رسائی کو محدود کر رہے ہیں، جس کے جواب میں چین اپنی مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تعریف میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب حکومت کی جانب سے سبسڈی اور دیگر مراعات کا دائرہ کار وسیع ہو جائے گا، جس سے مقامی کمپنیوں کو اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور تکنیکی خلا کو پر کرنے میں مدد ملے گی۔ عالمی منڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم حقیقت میں ایک 'اصطلاحی ردوبدل' ہے، جس کا مقصد اعداد و شمار کو اپنے حق میں ظاہر کرنا ہے۔ اگرچہ چین اسے اپنی ٹیکنالوجی کی جیت قرار دے رہا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کو تحفظ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے عالمی سطح پر چپس کے معیارات کے تعین میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر سیمی کنڈکٹر کی تعریف اتنی وسیع کر دی جائے کہ اس میں ہر طرح کے چھوٹے الیکٹرانک اجزاء شامل ہو جائیں، تو چین کی پیداواری شرح میں مصنوعی اضافہ نظر آئے گا۔ بہرحال، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے مہینوں میں عالمی چپ مارکیٹ اس تبدیلی کو کس طرح تسلیم کرتی ہے اور آیا دیگر ممالک بھی اپنے قوانین میں اسی طرح کی ترامیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا نہیں۔ چین کی یہ پالیسی بلاشبہ ٹیکنالوجی کے میدان میں جاری سرد جنگ کا ایک نیا رخ ہے۔