LIVE
Loading Breaking News...

اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد برقرار

News Image
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرتے ہوئے اسے گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کی توقع کی جا رہی تھی۔
کراچی (نیکسوڈاٹ کام) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے ایک اہم اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے شرح سود کو گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے اس اقدام کا مقصد ملک میں معاشی استحکام کو برقرار رکھنا اور مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنا ہے۔ اس فیصلے سے قبل مالیاتی اور معاشی ماہرین کی جانب سے بھی یہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ مرکزی بینک اس مرحلے پر شرح سود میں کوئی ردوبدل نہیں کرے گا، کیونکہ سست اقتصادی ترقی کے تناظر میں شرح میں کمی یا بیشی معاشی بحالی کے لیے چیلنج بن سکتی تھی۔ بروکریج ہاؤسز کی جانب سے کیے جانے والے مختلف سروگز کے مطابق نوے فیصد سے زائد اسٹیک ہولڈرز کا یہی خیال تھا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر ہی رکھا جائے گا جبکہ نہایت قلیل تعداد میں ماہرین نے معمولی اضافے کا تخمینہ لگایا تھا۔ یاد رہے کہ مرکزی بینک نے گزشتہ سال دسمبر میں شرح سود کو پچاس بیسس پوائنٹس کم کر کے دس اعشاریہ پانچ فیصد کر دیا تھا، تاہم رواں برس اپریل میں اسے ایک بار پھر سو بیسس پوائنٹس بڑھا کر گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل شرح سود اسی سطح پر برقرار چلی آ رہی ہے۔ دوسری جانب، ملکی کاروباری برادری اور صنعت کاروں کی طرف سے لگاتار یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے شرح سود میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں۔ تاہم، مرکزی بینک نے فی الحال افراط زر اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ کے پیش نظر احتیاطی پالیسی اپناتے ہوئے شرح سود کو برقرار رکھنے کو ہی ترجیح دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات اور تفصیلی مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔