Technology
آئرن آکسائیڈ سے ہائیڈروجن کی پیداوار میں نئی سائنسی تحقیق
سائنسدانوں نے جرمینیم اور ٹائٹینیم کی ڈوپنگ کے ذریعے آئرن آکسائیڈ فوٹو اینوڈ کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی گلیسرول کی مدد سے شمسی توانائی کے ذریعے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بناتی ہے۔
سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے محققین نے شمسی توانائی کے ذریعے ہائیڈروجن کی پیداوار کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے آئرن آکسائیڈ پر مبنی ایک جدید فوٹو اینوڈ تیار کیا ہے۔ ہائیڈروجن کو مستقبل کا صاف ستھرا ایندھن سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے روایتی آئرن آکسائیڈ فوٹو اینوڈز کو چارج ٹرانسپورٹ میں مشکلات اور پانی کی آکسیڈیشن کے عمل میں سستی جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق، ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ماہرین نے ہیماٹائٹ میں جرمینیم (Ge) اور ٹائٹینیم (Ti) کی ڈوپنگ کی ہے، جس سے اس کی کارکردگی میں حیران کن بہتری آئی ہے۔
اس نئی تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں گلیسرول کا استعمال کرتے ہوئے فوٹو الیکٹروکیمیکل ہائیڈروجن کی پیداوار کی گئی ہے۔ گلیسرول کی شمولیت سے کیمیائی عمل کے دوران درکار توانائی کم ہو جاتی ہے اور فوٹو اینوڈ کی کارکردگی 8.87 ملی ایمپیئر فی مربع سینٹی میٹر (mA cm–2) تک پہنچ گئی ہے۔ یہ سطح شمسی توانائی سے ہائیڈروجن حاصل کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے پہلے کی ٹیکنالوجیز اتنی زیادہ مقدار میں ہائیڈروجن پیدا کرنے سے قاصر تھیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ جرمینیم اور ٹائٹینیم کی مشترکہ ڈوپنگ نے مواد کی برقی خصوصیات کو بہتر بنایا ہے، جس سے چارج کی منتقلی کا عمل زیادہ ہموار ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف ہائیڈروجن کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کی امید پیدا ہوئی ہے بلکہ صنعتی پیمانے پر ماحول دوست ہائیڈروجن کی فراہمی کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔ یہ تکنیک اب قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ قدرتی وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بناتی ہے۔
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے کے لیے سائنسدان اب اس عمل کی پائیداری اور لاگت کو مزید کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ اگر یہ عمل بڑے پیمانے پر کامیابی کے ساتھ لاگو کیا جاتا ہے، تو یہ ٹرانسپورٹیشن اور انڈسٹریل سیکٹر میں گرین انرجی کے استعمال کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ توانائی کے بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں، اس طرح کی سائنسی ایجادات پوری دنیا کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہیں۔