LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میں جماعت اسلامی کا احتجاج: ٹریفک جام اور اہم شاہراہیں بند

News Image
جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے باعث کراچی سمیت بڑے شہروں میں ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ احتجاج کے دوران اہم شاہراہیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے تجارتی مرکز کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں ٹریفک کا نظام بری طرح درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے 'اب بہت ہو چکا' کے نعرے کے تحت ملک گیر سطح پر 510 مقامات پر دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں پر دھرنوں کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر قائد کی اہم گزرگاہوں اور شاہراہ فیصل سمیت دیگر داخلی و خارجی راستوں پر احتجاجی مظاہروں کے باعث ٹریفک کی روانی معطل رہی، جس سے دفتر جانے والے افراد، طلبا اور مریضوں کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے متبادل راستے فراہم کرنے کی کوششیں کی گئیں تاہم مظاہرین کی بڑی تعداد کے باعث ٹریفک کا دباؤ برقرار رہا۔ جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عام آدمی کی جیب پر پڑنے والے بوجھ کے خلاف ایک عوامی ردعمل ہے، جسے حکومت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ احتجاجی تحریک کا دائرہ کار صرف کراچی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنان نے ریلیاں نکالیں اور دھرنے دیے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ واپس لے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور مہنگائی کی لہر کے پیش نظر یہ احتجاج حکومتی حلقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انتظامیہ نے احتجاج کے مقامات پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، تاہم ٹریفک جام کی صورتحال سے نمٹنے میں مقامی ادارے مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات یا کسی لائحہ عمل کے ذریعے اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے تاکہ عام شہریوں کا معمول کا نظامِ زندگی مزید متاثر نہ ہو۔ فی الحال صورتحال کشیدہ ہے اور مختلف مقامات پر مظاہرین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔