LIVE
Loading Breaking News...

اسپین اٹلی سرحدی تنازعہ: سیوٹا میں تارکین وطن کا بحران اور نئے حکومتی اقدامات

News Image
اسپین نے سیوٹا میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اٹلی کے ساتھ اپنی سرحدوں پر سخت کنٹرول نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی پالیسیوں اور امیگریشن کے بحران پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یورپی ممالک اسپین اور اٹلی کے درمیان تارکین وطن کے بحران پر کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی ہے جب اسپین نے سیوٹا کے علاقے میں غیر قانونی داخلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے اٹلی کے ساتھ اپنی سرحدوں پر سخت پابندیاں اور کنٹرول نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیوٹا کی سرحد پر انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، جہاں حکام کے مطابق تارکین وطن کے ایک بڑے ہجوم کے اچانک داخلے کے دوران کم از کم 100 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق سیوٹا کے انکلیو میں اب بھی تقریباً پانچ ہزار کے قریب افراد موجود ہیں، جس کے بعد مقامی حکومت نے ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی تدفین اور ان کی شناخت کے لیے خصوصی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ دوسری جانب اٹلی نے اسپین کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ سرحدی پابندیوں میں نرمی کرے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال یورپی یونین کی مشترکہ امیگریشن پالیسی پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔ اسپین کی حکومت کا موقف ہے کہ اپنی داخلی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ تارکین وطن کا سیلاب مقامی انتظامیہ اور وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں سرحد پر اختیار کی جانے والی سختیوں پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ تارکین وطن کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔ بحرِ روم کے راستے یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی بڑی تعداد کے پیش نظر یہ تنازعہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اب پورے یورپی بلاک کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ فی الحال، دونوں ممالک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور سیوٹا کی سرحد پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ مقامی انتظامیہ اب ان ہزاروں تارکین وطن کی واپسی یا ان کی آبادکاری کے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروا دی ہے۔