World
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر معاہدے کا امکان
امریکی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے جلد ایک اہم معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس پیش رفت کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور وہاں جہاز رانی کی مکمل آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پوری توقع ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے تنازع پر بہت جلد ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کا بنیادی مقصد اس انتہائی اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور بین الاقوامی تجارت کے لیے جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی سطح پر جاریکشیدگی میں نمایاں کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔دوسری جانب سابق امریکی صدر اور اہم سیاسی شخصیات نے بھی اس بابت امید ظاہر کی ہے کہ معاملات جلد بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں کسی بھی وقت باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے تسلسل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔تاہم، ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس نوعیت کے اشارے ملے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن ساتھ ہی تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنے وعدوں اور وعدہ کردہ شرائط پر پورا اترنا ہوگا تاکہ گزرگاہ کو مکمل طور پر دوبارہ کھولا جا سکے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔ عالمی مبصرین اس تمام صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے طے پانے سے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن اور تجارت کے نئے راہیں کھلنے کی امید ہے۔