World
برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کا امکان
انگلینڈ اور ویلز کے مختلف حصوں میں رواں سال کی پانچویں شدید گرمی کی لہر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برطانیہ میں موسم کے تیور ایک بار پھر بدلنے لگے ہیں اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز کے بیشتر علاقوں میں رواں سال کی پانچویں ہیٹ ویو (گرمی کی شدید لہر) دستک دینے کے لیے تیار ہے۔ ہفتے کے اختتام سے درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو اگلے ہفتے کے وسط تک جاری رہ سکتا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت کے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے قوی امکانات موجود ہیں، جو کہ معمول سے کافی زیادہ ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ شدید گرمی کے اس دورانیے میں اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں اور دھوپ میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ ماہرِ موسمیات سائمن کنگ کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ لہر خاص طور پر جنوبی اور وسطی انگلینڈ کے علاقوں کو زیادہ متاثر کر سکتی ہے۔ ہیٹ ویو کے دوران لوگوں کو زیادہ پانی پینے، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے اور دن کے اوقات میں گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ رواں سال برطانیہ میں گرمی کی پانچویں لہر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات خطے کے معمول کے موسم پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ گرمی کی شدت کے پیش نظر مقامی انتظامیہ اور ہیلتھ سروسز کو بھی ہائی الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ بزرگ افراد، بچوں اور سانس کے امراض میں مبتلا لوگوں کو خاص طور پر احتیاط برتنے کا کہا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں یہ اضافہ ایک ہائی پریشر سسٹم کے نتیجے میں ہو رہا ہے جو جزیرہ برطانیہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ یہ ہیٹ ویو چند دن تک برقرار رہے گی تاہم اس کے بعد موسم میں تبدیلی اور بارشوں کا امکان بھی موجود ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی موسمیاتی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔