LIVE
Loading Breaking News...

150 سال پرانی کتاب لائبریری کو واپس مل گئی

News Image
آسٹریلیا کی ایک لائبریری کو 150 سال سے زائد عرصہ قبل ادھار لی گئی کتاب واپس مل گئی ہے۔ یہ کتاب لندن میں پارلیمنٹ ہاؤس پر کام کرنے والے ایک نوجوان کاریگر کی ملکیت بتائی جاتی ہے جو اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
آسٹریلیا میں ایک ایسا دلچسپ اور حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جس نے تاریخ اور کتابوں کے شائقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک قدیم لائبریری کو 150 سال قبل ادھار لی گئی ایک کتاب واپس ملی ہے، جسے کسی نے بڑی حفاظت سے اپنے گھر کی چمنی میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کتاب اس وقت لی گئی تھی جب لندن میں برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کا کام جاری تھا اور وہاں کام کرنے والے ایک نوجوان ماہر کاریگر (اسٹون میسن) نے اسے مطالعے کے لیے لائبریری سے حاصل کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب غائب ہو گئی اور ایک صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اسے ایک چمنی کی مرمت کے دوران دریافت کیا گیا۔ اس کتاب کی واپسی کو ادبی حلقوں میں ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لائبریری کے منتظمین کے مطابق کتاب کی حالت کافی حد تک بہتر ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اسے جس چمنی میں چھپایا گیا تھا، وہاں اسے نمی اور دیگر موسمی اثرات سے کافی حد تک محفوظ رکھا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس دور کی یاد دلاتا ہے جب کتابیں علم کے حصول کا واحد ذریعہ ہوا کرتی تھیں اور لوگ انہیں اپنی قیمتی متاع سمجھتے تھے۔ اگرچہ کتاب پر جرمانہ اب تک کی لائبریری کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ بن سکتا تھا، تاہم لائبریری انتظامیہ نے اس تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کا جرمانع عائد کرنے سے گریز کیا ہے اور اسے ایک تاریخی تحفہ قرار دیا ہے۔ اس دریافت نے تاریخ دانوں کے لیے بھی تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں کہ کیسے ایک عام سے کاریگر کی ملکیت والی کتاب، جو کہ شاید کبھی لندن سے آسٹریلیا منتقل ہوئی، اتنے طویل عرصے تک ایک چمنی میں محفوظ رہی۔ لائبریری حکام اب اس کتاب کو ایک خاص ڈسپلے کیس میں رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عام لوگ بھی اس تاریخی ورثے کو دیکھ سکیں۔ یہ کتاب نہ صرف معلومات کا ایک خزینہ ہے بلکہ یہ ماضی کے ایک ایسے انسان کی نشانی بھی ہے جس نے اپنی محنت کے ساتھ ساتھ علم کی پیاس کو بھی زندہ رکھا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کتابیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، چاہے وہ صدیوں تک گمنامی کے اندھیروں میں ہی کیوں نہ کھو جائیں۔