Business
حوثی حملے کے بعد بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر
سعودی عرب پر حوثی حملے کے بعد بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی سرگرمیاں نمایاں طور پر سست ہو گئی ہیں۔ میرین ڈیٹا سے انکشاف ہوا ہے کہ اس خطے میں بین الاقوامی تجارت کو شدید سیکیورٹی خدشکاتر لاحق ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حوثی حملے کے بعد بین الاقوامی تجارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور تازہ ترین شپنگ ڈیٹا سے تصدیق ہوئی ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار سست پڑ چکی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ پر بحری جہازوں کی آمدورفت میں کمی بین الاقوامی سپلائی چین کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھری ہے، کیونکہ کمپنیاں اپنے عملے اور مال بردار جہازوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط ہو گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال سے مشرق وسطیٰ سے یورپ اور ایشیا کے درمیان ہونے والی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے ایک کلیدی شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے تیل، گیس اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء بردار جہاز گزرتے ہیں۔ حملے کے بعد جہاز رانی کمپنیوں نے اس خطے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی رفتار کم کر دی ہے یا پھر متبادل طویل راستوں کا انتخاب کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوگا بلکہ ترسیل کے وقت میں بھی تاخیر متوقع ہے۔ کاروباری اور تجارتی اداروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی تجارت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور مہنگائی کے طوفان کو روکا جا سکے۔