LIVE
Loading Breaking News...

شام کے خفیہ ایجنسی چیف 'دی اسپائیڈر' کی گرفتاری کا راز

News Image
ایک پرانی فون بک کی مدد سے صحافیوں نے شام کے بدنام زمانہ انٹیلی جنس چیف تک رسائی حاصل کی جو طویل عرصے سے روپوش تھے۔ 'دی اسپائیڈر' کے نام سے معروف اس شخصیت کا سراغ لگانا عالمی صحافت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
شام کے تنازعے اور بشار الاسد کی حکومت کے دوران جن افراد کا نام خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا، ان میں خفیہ ایجنسی کا سربراہ سرِفہرست تھا۔ اسے عرفِ عام میں 'دی اسپائیڈر' (مکڑی) کہا جاتا تھا کیونکہ اس کے جال پوری ریاست میں پھیلے ہوئے تھے۔ طویل عرصے تک وہ حکومتی ایوانوں میں ایک طاقتور شخصیت رہا، لیکن حالات بدلنے کے ساتھ ہی وہ منظرِ عام سے غائب ہو گیا اور طویل عرصے تک روپوش رہا۔ اس پراسرار گمشدگی کے بعد عالمی تفتیشی اداروں اور صحافیوں کے لیے اس کا سراغ لگانا ایک چیلنج بن چکا تھا۔ صحافتی تحقیقاتی ٹیم نے اس معاملے پر کام کرتے ہوئے ایک حیران کن پیش رفت کی۔ تفتیش کے دوران انہیں ایک پرانی فون بک ملی جس نے اس معاملے کی کڑیاں ملانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ فون بک بظاہر معمولی معلوم ہوتی تھی لیکن اس میں موجود رابطے اور ناموں کی فہرست نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ سابق انٹیلی جنس چیف کہاں اور کن حالات میں چھپا ہوا ہے۔ ٹیم نے اس فون بک میں موجود نمبروں کا تعاقب کیا اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے ساتھ ان کا موازنہ کیا، جس کے بعد اس کے خفیہ ٹھکانے تک رسائی ممکن ہوئی۔ اس تفتیشی کامیابی نے نہ صرف 'دی اسپائیڈر' کے ٹھکانے کا پتہ لگایا بلکہ ان مظالم پر بھی روشنی ڈالی جو اس کی نگرانی میں کیے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس شخص نے اپنی شناخت مکمل طور پر بدل لی تھی اور وہ ایک عام شہری کی زندگی گزار رہا تھا تاکہ حکام کی نظروں سے بچ سکے۔ تاہم، ایک پرانی ڈائری اور فون بک کی موجودگی اس کے لیے وبالِ جان بن گئی۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جدید دور میں بھی تفتیشی صحافت کس طرح پرانے شواہد کو اکٹھا کرکے بڑے مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے۔ اب جبکہ اس شخص کے ٹھکانے کا پتہ چل چکا ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ پیش رفت شامی بحران کے متاثرین کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے تھا جو براہِ راست حکومتی پالیسیوں اور جبر کے نظام کو کنٹرول کرتے تھے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ نے عالمی سطح پر ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ آخر اس جیسے طاقتور مجرم کب تک قانون کی گرفت سے دور رہ سکتے ہیں۔