LIVE
Loading Breaking News...

ماؤنٹ ایورسٹ کا مشہور 'گرین بوٹس' کون ہے اور اس کی واپسی کیوں اہم ہے؟

News Image
ماؤنٹ ایورسٹ پر تین دہائیوں تک ایک نشانی کے طور پر موجود 'گرین بوٹس' کی لاش کو اب نیچے لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ لاش طویل عرصے سے کوہ پیماؤں کے لیے ایک تاریک یاد دہانی کا باعث بنی رہی ہے۔
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا جہاں ہر کوہ پیما کا خواب ہوتا ہے، وہیں یہ پہاڑ اپنے دامن میں کئی ایسی داستانیں بھی چھپائے ہوئے ہے جو انتہائی المناک ہیں۔ ان میں سے سب سے مشہور اور تکلیف دہ کہانی 'گرین بوٹس' کی ہے۔ ایک بھارتی کوہ پیما کی وہ لاش جسے سبز رنگ کے جوتے پہنے ہوئے تین دہائیوں سے ایک غار میں منجمد حالت میں دیکھا جا رہا تھا، اب بالآخر اپنے آبائی علاقے کی جانب واپسی کے قریب ہے۔ یہ لاش اتنے برسوں تک کوہ پیماؤں کے لیے ایک علامت اور ایک بھیانک یاد دہانی بنی رہی، جو ایورسٹ کے مشکل ترین راستوں پر چڑھنے والوں کے لیے ایک سنگِ میل کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ماہرین کے مطابق، 1990 کی دہائی میں لاپتہ ہونے والے اس کوہ پیما کی شناخت ان مخصوص سبز بوٹوں کی وجہ سے ہوئی، جو برسوں تک برف میں دبے رہنے کے باوجود اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے تھے۔ ماؤنٹ ایورسٹ پر لاشوں کو واپس لانا ایک انتہائی مشکل اور خطرناک عمل ہے، کیونکہ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلندی پر آکسیجن کی کمی اور شدید برفانی طوفان انسانی جسم کے لیے ناممکن حالات پیدا کرتے ہیں۔ تاہم، اب تکنیکی مدد اور ریسکیو آپریشنز کی بہتر صلاحیتوں کے پیش نظر، حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ 'گرین بوٹس' کی باقیات کو نیچے لایا جائے تاکہ انہیں باعزت طریقے سے ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔ یہ اقدام ایورسٹ پر موجود دیگر لاشوں کو لانے کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔ سماجی کارکنوں اور کوہ پیماؤں کی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے یہ لاش کوہ پیماؤں کے لیے ذہنی دباؤ اور خوف کا باعث بن رہی تھی، کیونکہ ہر گزرنے والا شخص اس جگہ کو ایک قبرستان کی طرح دیکھتا تھا۔ اب جب کہ عالمی برادری اس مسئلے پر متوجہ ہے، امید ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر مرنے والوں کی آخری رسومات ان کے پیاروں کی موجودگی میں ادا کی جا سکیں گی۔ یہ عمل نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے بلکہ ماؤنٹ ایورسٹ کی تاریخ میں ایک اہم باب کا اختتام بھی ہوگا۔