LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ: جنوبی سوڈان اور میانمار کے شہریوں کی ڈیپورٹیشن شروع ہونے کا امکان

News Image
امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے جنوبی سوڈان اور میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی تحفظ کے سٹیٹس کو ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس عدالتی حکم کے بعد اب ان ممالک کے ہزاروں تارکین وطن کی ملک بدری کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
امریکی عدالتوں نے ایک اہم قانونی پیش رفت کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی سوڈان اور میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی تحفظ کے پروگرام (TPS) کو ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ طویل عرصے سے زیر التوا قانونی جنگ کا نتیجہ ہے جس نے دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے مستقبل کو غیریقینی صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ عدالت کے اس حکم کے بعد اب انتظامیہ کے پاس یہ قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ ان ممالک سے آئے ہوئے افراد کو واپس بھیجنے کا عمل شروع کر سکے، کیونکہ اب ان کا عارضی قانونی سٹیٹس ختم سمجھا جائے گا۔ عارضی تحفظ کا سٹیٹس یا ٹی پی ایس ایسے تارکین وطن کو فراہم کیا جاتا ہے جو اپنے آبائی ممالک میں جاری مسلح تنازعات، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات کی وجہ سے واپس جانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ جنوبی سوڈان اور میانمار کے شہریوں کے لیے یہ سہولت برسوں سے نافذ تھی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دورِ اقتدار میں مختلف ممالک کے شہریوں کے لیے اس پروگرام کو محدود یا ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالتی حکم کے بعد اب ان تارکین وطن کے لیے قانونی تحفظ ختم ہو چکا ہے اور وہ ملک بدری کے سخت خطرے کی زد میں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن وکلاء نے اس عدالتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میانمار اور جنوبی سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے وہاں کے حالات بدستور خطرناک ہیں، اور ایسے میں ہزاروں افراد کو زبردستی واپس بھیجنا انسانی المیے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا موقف ہے کہ ٹی پی ایس ایک عارضی اقدام تھا جسے مستقل رہائش کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا اور قوانین کے نفاذ کے لیے یہ فیصلے ناگزیر ہیں۔ اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی انتظامیہ کتنی تیزی سے اس حکم پر عمل درآمد کرتی ہے اور کیا اس حوالے سے مزید کوئی اپیل یا قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ان ہزاروں متاثرہ افراد کے خاندانوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے کیونکہ ان کی زندگی کا دارومدار اب مکمل طور پر وفاقی اداروں کے آئندہ کے لائحہ عمل پر منحصر ہے۔ فی الحال، یہ عدالتی فیصلہ امریکی امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔