LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا کے صدر ایبیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کا نارکو دہشت گردی کے خلاف سخت عزم

News Image
کولمبیا کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نئے صدر ایبیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے صدارتی عہدہ سنبھالتے ہی نارکو دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے جون میں ہونے والے سخت مقابلے کے بعد انتخابی کامیابی حاصل کی تھی۔
کولمبیا کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے دائیں بازو کے معروف سیاستدان ایبیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے باضابطہ طور پر صدارتی عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ تقریب ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب ملک کو شدید سیکیورٹی چیلنجز اور منشیات کی اسمگلنگ سے جڑی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کے بعد ایسپریلا نے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد ان کی حکومت سے عوام کی توقعات وابستہ ہو گئی ہیں۔ اپنے پہلے خطاب میں صدر ایسپریلا نے اپنے منشور کے اہم نکات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ ان کی حکومت نارکو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک جامع اور سخت حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی۔ کولمبیا طویل عرصے سے منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے اثرات سے نبردآزما رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں بدامنی اور تشدد کی لہر جاری ہے۔ صدر ایسپریلا نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کا پہلا ہدف ان مجرمانہ نیٹ ورکس کی کمر توڑنا ہے جو ملکی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ منشیات فروشوں اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائیں تاکہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسپریلا کے لیے یہ چیلنج انتہائی مشکل ہے کیونکہ منشیات کا نیٹ ورک کافی گہرا ہے، تاہم ان کے سخت موقف سے عوام میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ صدر نے اپنے حامیوں سے وعدہ کیا کہ وہ ایک محفوظ اور خوشحال کولمبیا کی تعمیر کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور کسی بھی دہشت گرد گروپ کو قانون سے بالاتر نہیں ہونے دیں گے۔ ان کی حکومت کی کامیابی کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک اپنی پالیسیوں کو زمینی حقائق کے مطابق نافذ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔