Politics
ججوں کی تقرریوں پر تعطل: حکومتی اور صدارتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ
حکومت اور ایوانِ صدر کے درمیان ججوں کی تقرریوں پر جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور حکومتی قانونی ٹیم اتوار کو ایوانِ صدر کے حکام سے ملاقات کرے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے پر درخواست دائر ہونے کے بعد اب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
ججوں کی تقرری اور توثیق کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے حکومت کی قانونی ٹیم نے اتوار کے روز ایوانِ صدر کے حکام کے ساتھ ایک اہم ملاقات طے کی ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارشات کی منظوری کی سمری تاحال صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے پاس زیرِ التوا پڑی ہے۔ حکام کے مطابق اس معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کیے جانے کے بعد اب یہ معاملہ عدالتی کارروائی کے دائرے میں بھی داخل ہو چکا ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنے اجلاسوں میں پشاور ہائیکورٹ کے چار اضافی ججوں کی توثیق، سندھ ہائیکورٹ کے ایک اضافی جج کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع اور لاہور، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے لیے 19 اضافی ججوں کی تقرری کی سفارش کی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 175-اے کی شق آٹھ کے تحت یہ سفارشات وزیراعظم کو ارسال کی گئیں جنہوں نے سمری صدرِ مملکت کو بھیج دی تھی۔ تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود سمری پر تاحال توثیق کی مہر ثبت نہیں ہو سکی ہے۔
اس تعطل کے دوران حکومت کے اندرونی حلقوں میں وزارتِ قانون کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 48 (1) کو بروئے کار لاتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ صدر کو دو ہفتوں کے اندر سمری پر عمل درآمد کرنا چاہیے تھا جو کہ اب گزر چکے ہیں۔ دوسری طرف، ایوانِ صدر کی قانونی ٹیم نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اور بعض نامزد امیدواروں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جن میں کریم ریکارڈ کے حامل افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ ایوانِ صدر کا مؤقف ہے کہ آرٹیکل 175-اے صدر کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کرتا اور اس معاملے پر یکطرفہ اقدامات سیاسی اور قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتے ہیں۔
دریں اثنا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈووکات لقمان چوہدری کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جس میں صدر کو سمری کی منظوری کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس تاخیر کی وجہ سے عملی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں جہاں پشاور ہائیکورٹ کے چار اضافی جج اپنی مدت پوری ہونے کے بعد نوٹیفکیشن نہ ملنے کے باعث منصب سے فارغ ہو چکے ہیں۔ مملکت کے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے یقین دلایا ہے کہ حکومت آئینی حدود اور اعلیٰ عدالتوں کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے اس مسئلے کا مثبت حل نکالے گی۔