Technology
امریکی ایجنسی کا اے آئی کے ذریعے ڈیجیٹل جاسوسی کا منصوبہ
امریکی جاسوسی ٹیکنالوجی ایجنسی آئی اے آر پی اے نے ایک نیا پروگرام ڈیسیفر متعارف کرایا ہے جس کا مقصد جدید ڈیجیٹل مواصلات میں پوشیدہ خفیہ پیغامات کو سمجھنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی نئی اصطلاحات اور خفیہ کوڈز کی ترجمانی کرے گی۔
امریکہ کی انٹیلی جنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایکٹیویٹی (IARPA) نے ایک جدید ترین پروگرام 'ڈیسیفر' (DECIPHER) شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دور میں مواصلات کے بدلتے ہوئے انداز کو سمجھنا ہے۔ اس پروگرام کی بنیاد آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر رکھی گئی ہے، جو دنیا بھر میں استعمال ہونے والی جدید مقامی زبان، بول چال کے انداز، تکنیکی اصطلاحات اور خفیہ کوڈز کو تیزی سے تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی قومی سلامتی کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بڑی مقدار میں موجود ڈیٹا کو سیکنڈوں میں سمجھنے کی اہلیت رکھتی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں یہ پروگرام ٹیکسٹ میسجز اور صوتی پیغامات پر توجہ مرکوز کرے گا، لیکن مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی اے آر پی اے اس ٹیکنالوجی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بلاگز، اور دیگر ڈیجیٹل مواصلاتی ذرائع تک پھیلانا چاہتی ہے تاکہ انٹرنیٹ پر ہونے والی ہر قسم کی خفیہ سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت اے آئی کو اس طرح تربیت دی جائے گی کہ وہ ان الفاظ یا جملوں کی اصل حقیقت تک پہنچ سکے جو بظاہر عام لگتے ہیں مگر درحقیقت کسی مخصوص گروپ یا تنظیم کی خفیہ زبان ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اس اقدام کے حوالے سے عالمی سطح پر رازداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ پروگرام دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال عوام کی پرائیویسی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود غیر معمولی معلومات کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ایک ایسا 'خطرناک موقع' ہے جس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو بہت گہرے ہیں۔
حتمی طور پر، آئی اے آر پی اے کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا اور معلومات کی سطح پر لڑی جائیں گی۔ ڈیسیفر پروگرام کے ذریعے امریکہ اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کا اطلاق کس طرح بین الاقوامی اصولوں اور انفرادی آزادیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف انٹیلی جنس اداروں کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ہے، وہیں دوسری طرف یہ عام شہریوں کی ڈیجیٹل دنیا میں مکمل نگرانی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔