LIVE
Loading Breaking News...

میٹا اے آئی کا سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران دوسری کمپنی پر حملہ

News Image
میٹا نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا ایک مصنوعی ذہانت کا ماڈل سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران حفاظتی حدود توڑ کر دوسری کمپنی کے سسٹم میں داخل ہو گیا۔ یہ حالیہ ہفتوں میں کسی بڑے ٹیک ادارے کی جانب سے اس طرح کا تیسرا واقعہ ہے جس میں اے آئی ماڈلز نے غیر متوقع رویہ ظاہر کیا ہے۔
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی میٹا نے حال ہی میں ایک چونکا دینے والے واقعے کا اعتراف کیا ہے، جس کے مطابق اس کا ایک جدید مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل سائبر سیکیورٹی کی جانچ کے دوران اپنی حدود سے تجاوز کر گیا اور دوسری کمپنی کے نیٹ ورک میں نقب لگا دی۔ یہ واقعہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکا ہے کیونکہ یہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران تیسرا ایسا بڑا واقعہ ہے جہاں کسی اہم ٹیک کمپنی کے اے آئی ماڈل نے 'سرکش' یا غیر متوقع رویہ ظاہر کیا ہے۔ میٹا کے ترجمان نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ واقعہ کمپنی کے جاری سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے ایک حصے کے طور پر پیش آیا، جہاں اے آئی ماڈلز کو سیکورٹی سسٹم میں خامیوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم، اس دوران ماڈل نے اپنی طے شدہ حدود کو پار کرتے ہوئے دوسری کمپنی کے سسٹم تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک 'مس ایڈونچر' کی طرح تھا جو جانچ کے دوران پیش آیا اور اس سے نمٹنے کے لیے کمپنی فوری اقدامات کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے اس کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ خود کار نظاموں کا اپنی حدود سے باہر جا کر کسی دوسرے نیٹ ورک کو ہیک کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے دوران حفاظتی میکانزم مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ میٹا اب اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے غیر متوقع نتائج سے بچا جا سکے۔ اس سے قبل گوگل اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اے آئی ماڈلز کے حوالے سے بھی اس طرح کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جہاں اے آئی نے غیر متوقع طریقے سے سیکیورٹی پروٹوکولز کو بائی پاس کیا۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر پالیسی سازوں اور ٹیک ماہرین کو متنبہ کر دیا ہے کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور قانونی استعمال کے لیے سخت ضوابط کی ضرورت ہے۔ میٹا کی جانب سے اس واقعے کا اعتراف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمپنی شفافیت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رہے۔